اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 141 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 141

141 اختتام پیارے بھائیو! آپ سے رخصت ہونے سے قبل حضرت ماسٹر صاحب کی سیرت کے متعلق آپ کی توجہ اس طرف منعطف کرتا ہوں کہ ایک بارہ چودہ سالہ طفل مکتب کے ننھے دل میں وصال الہی کا کس قدر جوش ہوگا کہ جس نے آپ سے ایسی عدیم المثال قربانی کرائی کہ جس کے تصور سے بے اختیار صد مرحبا اور صد آفرین کے کلمات نکلتے ہیں۔لائق تحسین ہے ایسے نوجوان کی فراست اور عقل سلیم۔آپ نے قناعت ، صبر و رضا اور انفاق فی سبیل اللہ ، شب زندہ داری ، دعاؤں میں انہماک کے شاندار نمونے دکھائے۔آپ اپنی عادات ولباس گویا ہر رنگ میں بہت سادگی پسند اور نام و نمود سے کوسوں دور رہنے والے درویش صفت بزرگ تھے۔آپ صاف دل تھے اور آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے جو سفرة كرام بر رہ تھے مثیل اور رُبّ اشعث اغبر لو اقسم على الله لابرہ (154) کے مصداق تھے۔آپ کی استقامت فوق الکرامت تھی ، آپ ۳۱۳ صحابہ میں شامل ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو علی بصیرۃ اور ضروری امور کی تحقیق کر کے مشرف بہ اسلام ہونے والا اور شریف “ اور ” دن رات دین کی تعلیم پانے والا اور محض اللہ تعالیٰ کی خاطر اقارب سے علیحدہ ہونے والا قرار دیا اور فرمایا کہ ان کا قبول اسلام نفسانی غرض سے پاک ہے۔آپ کو بعض عظیم الشان پیش گوئیوں کے گواہ کے طور پر پیش کیا۔اپنی اولاد کی تعلیم پر مقرر کیا اور اپنے دار مقدس کے پہرہ کا انتظام بھی ایک عرصہ تک آپ کے سپر درکھا ے ایں سعادت زور بازو نیست بخشد خدائے بخشنده اے واسع المغفرہ خدا تو ہمیں بھی اپنی رحمت کے سایہ تلے ڈھانپ لے اور اس مقدس گروہ صحابہ کے نقش قدم پر چلا۔آمین یا رب العلمين۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمّدٍ وعلى ال محمدٍ وَبَارِک و سلّم انک حمید مجيد وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين -