اصحاب احمد (جلد 7) — Page 6
6 کے لئے ہمہ تن تیار اور مستعد ہوں حتی کہ میں ان پیارے والدین کو بھی تجھ پر قربان کرنے کو تیار ہوں جن کی محبت اور احسان یاد کر کے میرا کلیجہ پاش پاش ہوتا ہے۔“ اس دعا کے بعد میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ مختلف قوموں میں جو مختلف پر میشر کے نام مشہور ومعروف ہیں ان کا وظیفہ کرو۔پھر جس قوم میں راستی ہوگی اور جس زبان اور قوم کے اسماء الہی بابرکت ہوں گے اسی طرف تمہیں کھینچ لیا جاوے گا۔پس اس ہدایت اور ایماء الہی کے مطابق خاکسار یا پر میشر یا الہی ، یا رب یا اللہ وغیرہ وغیرہ اسماء باری تعالیٰ کا وظیفہ کرنے لگا۔اکثر جنگلوں میں جا کر بالکل تنہائی میں یہ وظیفہ پڑھا کرتا تھا اور نہایت اضطرار اور دردانگیز سوز و گداز سے جناب الہی میں رو رو کر دعائیں کرتا تھا۔چند روز کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ یہ عاجز اور ایک اور لڑکا ( نتھا سنگھ ) جو میرا ہم محلہ اور ہم مکتب تھا ( دونوں اپنے کماد میں حفاظت کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں ریکا یک آگ لگ گئی۔دوسرے سب محافظ جو سکھ تھے جلتے گئے ) ہم دونوں خوفناک آگ سے صحیح سلامت نکل آئے ہیں۔مگر ہمارے ہاں کے باقی لوگ آتش سوزاں میں ڈھیر ہو گئے ہیں۔مجھے ان دنوں خواب کی حقیقت معلوم نہ تھی اور نہ اس کی تعبیر کی طرف توجہ کرتا تھا۔آخر مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد جب میں نے ایک نیک مرد سے یہ خواب بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دوسرا لڑکا بھی اسلام میں داخل ہو جائے گا۔سوخدا کا شکر ہے کہ دو سال بعد وہ دوسرائر کا بھی اسلام میں داخل ہو گیا ( یعنی نتھا سنگھ ) مشرف بہ اسلام ہو کر احمدی ہو گیا ، ان کا نام حاجی عبداللہ صاحب ہے اور آج کل سیالکوٹ میں مقیم ہیں۔اسی طرح ان ایام موسم گرما میں جب دمدار تارہ بوقت تہجد آسمان پر طلوع ہوتا تھا خواب دیکھا کہ جہاں میں پاؤں رکھتا ہوں آگ کا دھواں نکل آتا ہے۔میں اپنے قصبے سے بھاگا بھاگا جالندھر ریلوے لائن پر پہنچا جہاں کھڑا ہوتا ہوں آگ کا کنواں نکل آتا ہے آخر ایک چھت پر چڑھ گیا۔وہاں بھی یہی حال ہوا اور میں نے چھت سے چھلانگ لگائی مجھے جاگ آ گئی۔اس خواب کے بعد یکا یک میرا دل اچاٹ ہو گیا اور اپنے خاندان کے انہیں افراد سے سرد ہو گیا اور اپنے گاؤں کے درودیوار پر نخوست برستی ہوئی نظر آتی تھی۔میں نہایت حیران اور پریشان تھا اور نہ جانتا تھا کہ کہاں جاؤں اور کس کے پاس جاؤں۔آخر کار تو کل علی اللہ میں اپنے گھر سے نکلا اور گھر کے ہر ایک خوب صورت چہرے کو حسرت آمیز نگاہوں سے دیکھتا تھا۔اور اپنی زاد بوم کو چشم پر آب ہو کر الوداع کہتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مجھ میں اور میرے خویش و اقرباء میں ایسی دیوار حائل ہونے والی ہے کہ قیامت تک پھر یہ لوگ مجھ سے دور دمہجور اور نا آشنا ہوں گے اور کوئی ایک بھی میرا خیر خواہ نہ ہوگا۔اس درد ناک حالت میں جب کہ میں ان سے الگ ہونے کو تھا جدائی حاجی عبداللہ نومسلم دارالرحمت قادیان نے ہمئی ۱۹۳۵ء کوحلفی بیان میں نظارت تالیف و تصنیف کو اپنے قلم سے لکھ کر دیا کہ ” میں نے ۱۸۹۲ء کے قریب بیعت کی“