اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 116 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 116

116 فارم پر گاڑی کے انتظار میں تھے اور سخت گھبرائے ہوئے تھے۔سپر نٹنڈنٹ پولیس نے پوچھا کہ آپ کیوں پریشان اور سرگردان ہیں (1) کیپٹن ڈگلس نے کہا میں جدھر نظر کرتا ہوں مجھے مرزا غلام احمد صاحب کی صورت نظر آتی ہے جو کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں بے قصور ہوں۔آخر یہ تجویز ہوئی کہ عبدالحمید کو بجائے پادریوں کے پولیس کی حوالگی میں رکھیں (ایسا کرنے کے بعد ) دوبارہ بیان لینے سے اس نے اقرار کر لیا کہ مرزا صاحب نے مجھے قتل پر مامور نہیں کیا بلکہ پادریوں نے ہی مجھے سبز باغ دکھا کر ایسا بیان دینے پر آمادہ کیا ہے اس پر مقدمہ الٹ گیا اور ڈگلس صاحب نے حضور سے کہا کہ آپ بری ہیں آپ کو قانو نا اجازت ہے کہ مارٹن کلارک پر مقدمہ دائر کر دیں۔مگر حضور نے فرمایا کہ میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے میں زمینی عدالت میں مقدمہ نہیں کروں گا۔اس مقدمہ میں حضور نے قادیان کے بازار سے گذرتے ہوئے فرمایا لوگ سمجھتے ہیں کہ میں سزا یاب ہو کر ذلیل ہو جاؤں گا یا قید ہو جاؤں گا ( وہ یاد رکھیں کہ ) یہ مرزا ذلیل ہونے کے لئے نہیں پیدا ہوا (**) خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ إِنِّي مُعِينْ مَّنْ أَرَادَا إِعَانَتَكَ (119) انى مُهِينٌ مَّنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ (120) مولوی فضل دین صاحب وکیل ہائی کورٹ مجھے ( ریلوے سٹیشن لاہور کے پلیٹ فارم پر ملے۔فرمانے لگے کہ ہم نے ایسی بات دیکھی جو دوسرے کسی انسان میں نہیں دیکھی اور وہ یہ ہے کہ میں نے مرزا صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ عبدالحمید کے قادیان آنے کا اقرار نہ کریں پھر مقدمہ فوراً خارج ہو جائے گا۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ میں سچائی کوکسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتا۔اگر تم لوگ میری وکالت نہیں کر سکتے تو نہ کرو۔( از مولف) مولوی فضل دین صاحب وکیل غیر احمدی تھے۔ان کا اس بارہ میں مفصل بیان الحکم ۱۴ نومبر ۱۹۳۴ء میں مطالعہ کے قابل ہے۔ایک شخص نے ایک مجلس میں حضرت صاحب کی مخالفت شروع کی تو مولوی فضل دین صاحب نے نہایت جوش میں کہا کہ میں مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا قائل ہوں۔بڑے بڑے نیک لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ قانونی مشورہ پر انہوں نے اپنا بیان تبدیل کر لیا۔صرف مرزا صاحب کو ہی میں نے ایسا پایا ہے کہ جنھوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا۔میں نے مارٹن کلارک یہاں کچھ سہو ہے سپر نٹنڈنٹ نے نہیں بلکہ ریڈر نے پوچھا تھا۔☆ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ والد صاحب نے فرمایا کہ ہندو بازار میں سے گذرتے ہوئے حضرت اقدس نے یہ بات فرمائی تھی اور لالہ ملا وامل نے ماسٹر صاحب کو یہ بات سناتے ہوئے بتایا کہ اس وقت حضور کا چہرہ مبارک ( گویا جلال کی وجہ سے ) دمک رہا تھا۔