اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 78 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 78

78 آپ کے تبلیغی کارناموں میں کامرانی:۔آپ کی کامیاب تبلیغی مساعی کی کچھ تفصیل ہدیہ ناظرین کی جاتی ہے۔(۱) اخویم ڈاکٹر عبدالرحمن کی قبول احمدیت :۔ڈاکٹر صاحب اس وقت بفضلہ تعالی حلقہ پارسی کالونی ( کراچی ) کی جماعت کے صدر ہیں اور ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب آف کامٹی کے نام سے معروف ہیں آپ کا سابق نام منگل سنگھ تھا۔آپ کے والد ماجد سردار بڑھا سنگھ صاحب موضع کونٹ نزد قادیان کے نمبردار تھے۔ان کے متعلق حضرت ماسٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے موضع بھینی بانگر ( نز د قادیان ) میں نماز پڑھی پہلی اور دوسری طرف سلام پھیرنے کے درمیان الہام ہوا کہ ایک سکھ شمال مشرق کی طرف مشرف بہ اسلام ہوگا۔چنانچہ ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب جو اس وقت موضع کونٹ کے (جو قادیان سے چار میل کے فاصلے پر ہے ) میری کوشش سے مسلمان ہوئے۔ڈاکٹر صاحب محترم تحریر فرماتے ہیں کہ میں ماسٹر عبدالرحمن صاحب ( سردار مہر سنگھ اور شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور ( سابق سردار سورن سنگھ ) کے ذریعے مشرف بہ اسلام ہوا۔میرے والد ماجد صاحب نے اپنی زندگی میں زمین دونوں بیٹوں میں تقسیم کر دی تھی اور میں بڑا لڑکا تھا۔اس لئے میرے نام نمبر داری لگوادی تھی۔حضرت خلیفہ اول میری تربیت خاص طور پر کرتے تھے۔آپ نے میرے والد صاحب کی یہ درخواست نا پسند کی کہ میں نمبرداری کی خاطر گاؤں واپس جاؤں مُبادا زور ڈال کر مجھے اسلام سے برگشتہ کر دیں اور ارشاد فرمایا: میاں عبدالرحمن جاؤ اور فوراً ان کی نمبرداری وغیرہ واپس کر دو نورالدین کہتا ہے اللہ تعالیٰ تم کو بہت وو نمبر داریاں دے گا۔‘ (74) ڈاکٹر صاحب خاکسار مؤلف کو لکھتے ہیں کہ : میں نے 1911 ء میں اسلام قبول کیا۔اپنے غیر مسلم والدین واقارب کی شدید مخالفت کے خوف کے باعث میں اپنے اندر ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں پاتا تھا۔حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب سے میں نے اس امر کا ذکر کیا اور اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ مجھے جڑی جائیداد سے جو حق پہنچتا ہے یہ لوگ مجھے اس سے بھی محروم کر دیں گے۔میں اپنی والدہ کا زیور اور نقدی بسہولت لاسکتا ہوں کیا میں ایسا نہ کروں۔تا کہ اقارب سے علیحدہ ہونے پر آسانی سے گزارہ کر سکوں۔ریتی چھلہ کے قریب حضرت مولوی شیر علی صاحب کے مکان والی جگہ پر یہ گفتگو ہوئی۔ماسٹر صاحب نے دریافت فرمایا کہ تم اسلام کیوں قبول کرنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کی کہ رب سے تعلق جوڑنے کے لئے فرمایا ایسے خدا پر ایمان لانے کا کیا فائدہ کہ تم تو اس کی خاطر ا قارب، جائیداد وغیرہ سب کچھ چھوڑ دو لیکن وہ تمہاری اتنی بھی مدد نہ کر سکے کہ تمہاری پرورش کا سامان ہو سکے۔اسلام چوری سے منع کرتا ہے اور تمہیں والدہ کا زیور