اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 68 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 68

68 الله مسیح موعود علیہ السلام مولوی شاء اللہ کو چیلنج ” میں مسلمان ہو گیا میں سکھوں سے مسلمان ہو گیا۔لکھا ہوتا۔کئی (بقیہ حاشیہ) زبانی طور پر تو ۹۸ فی صدی علماء زمانہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سرور کائنات لولاک کے مصداق اور جملہ انبیاء کے سردار اور بادشاہ ہیں لیکن دل میں یہ عقیدہ رکھا ہوا ہے کہ اگر چہ موسیٰ علیہ السلام جیسے حضرت ہارون حضرت داؤد وغیرہ انبیاء کے سردار اور مطاع تھے اور توریت کے متبع تھے لیکن حضرت محمد رسول اللہ علہ صرف فوت شدہ انبیاء کے سردار ہیں اور حضور " کی شاگردی اور فیض رسانی سے کوئی نبی نہیں بن سکتا۔کیونکہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور کسی شخص کو اس روحانی نعمت سے جو الہام اور وحی کی صورت میں خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر کیا کرتا ہے نہیں نوازے گا۔اور حضور ( نعوذ باللہ) ابوجہل کے قول کے مطابق نہ جسمانی اولاد کے باپ ہیں اور نہ روحانی کے حالانکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ یعنی اے رسول وہ شخص تیرا دشمن ہے جو تجھے اتبر اور لا ولد کہتا ہے وہ اسلام سے انکاری ہے اور وہ ابتر رہے گا اور تیری روحانی اولا د بکثرت ہے اور ہوتی رہے گی فرمایا وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ ترجمه به برکت پیروی آنحضرت علیہ حضور کے امتی نبی صدیق، شہید صلحاء تا قیامت ہوتے رہیں گے۔جو حضور کے روحانی فرزند ہوں گے لیکن مولوی صاحبان فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم کے روحانی فرزند نہیں ہیں اگر ہیں تو ۲ ہیں ہم ، کے لحاظ سے ہیں۔آیت مذکوہ میں النبین کا لفظ غلطی سے لکھا گیا ہے کیوں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔مزید برآں یہ بھی فرماتے (60) ہیں کہ آنحضرت ﷺ فوت شدہ نبیوں کے سردار اور بادشاہ ہیں زندہ نبیوں صدیقوں شہیدوں اور صلحاء کے بادشاہ نہیں ہیں۔یہ ایسی ہی گستاخی اور ہتک حضور" کی ہے جیسے کوئی عقل کا دھنی یہ کہے کہ میرا باپ بہادر خاں مردہ نوابوں، جرنیلوں گورنروں اور دارا اور سکندروں کی مردہ فوجوں کا بادشاہ ہے جن کا اس سے کسی قسم کا تعلق اور واسطہ نہ ہے اور نہ ہوسکتا ہے حالانکہ يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ۔۔۔أَصْحَبُ النَّارِ (61) میں فرمایا۔اے بنی آدم اور آدم کی اولا داگر تم میں سے نبی آویں تو تمہارا فرض ہوگا کہ ان پر صدق دل سے ایمان لاؤ اور ان کے فرمودہ کے مطابق اعمال صالحہ بجالاؤ۔وہ رسول نئی شریعت اور نئی کتاب نہ لائیں گے۔ہاں زندہ نشان لائیں گے جن سے مردہ ایمان زندہ ہو جائے گا۔جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے وہ جنتی ہوں گے اور جولوگ تکذیب اور توہین سے ان کا مقابلہ کریں گے وہ دوزخی ہوں گے منکرین انبیاء کی یہی نشانی ہوا کرتی ہے کہ وہ تکذیب اور تو ہین کر کے عذاب الہی کے شکار ہو جاتے ہیں (سورۃ الاحزاب آیت ) میں آیا وَاَزْوَاجُهُ اُمَّهَاتُهُمْ یعنی حضور ﷺ کے ازدواج مطہرات مومنوں کی روحانی مائیں ہیں اور نتیجہ محمد رسول اللہ ﷺ مومنوں کے روحانی باپ قرار پائے اسی کی تائید و تشریح میں فرمایا۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّن ) (62) یعنی محمد رسول اللہ تم مردوں میں سے کسی کے جسمانی باپ نہیں ہیں لیکن مومنوں کے روحانی باپ ضرور ہیں بلکہ نبیوں کے بھی باپ ہیں۔گذشتہ انبیاء کی شاگردی سے انسان ترقی کر کے صدیق تک بن سکتا تھا۔مگر محمد رسول اللہ کی شاگردی اور اثر قدسی سے امتی نبی بھی بن سکتا ہے۔(النساء: اے) قرآن میں خَاتِم نہیں بلکہ خاتم آیا ہے۔جس کے معنی مہر کے ہیں یعنی حضور عملے کی تصدیقی مہر سے ہی بچے بنی کی تصدیق ہو سکتی ہے خواہ گذشتہ نبی ہو یا آئندہ نبی ہو یعنی آئندہ حضور ﷺ کے ٹائپ پر ہی نبی آسکتا ہے جو حضور کا جوڑ ابر اور اور امتی ہو۔(پارہ ۵ رکوع ۹ ) ( پارہ ۸ رکوع ۴)