اصحاب احمد (جلد 7) — Page 53
53 ور نہ سکھ صاحبان چولہ صاحب پر لکھی ہوئی باتوں پر عمل کریں اور گرنتھ صاحب میں مذکور نماز روزہ کے احکام پر۔تا گور وصاحب کے سامنے آخرت میں شرمندہ نہ ہوں۔سائز ۳۰/۱۶×۲۰ صفحات ۶۴۔تاریخ طبع درج نہیں اس میں اشتہار ایسی کتب کا دیا گیا ہے جو خلافت ثانیہ میں طبع ہوئیں اس لئے اس کا عرصہ تصنیف بھی یہی ہو گا۔الفضل ۲۱۔۷۔۱۸ میں حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کا اس پر ریویو شائع ہوا ہے۔اس سے قبل ایک تبصرہ الفضل ۲۱۔۶-۲۰ میں درج ہے قیمت ساڑھے چار آنے۔با وانا تک صاحب کا چولہ: یہ کتاب ۱۹۰۸ء کی تصنیف ہے چنانچہ مولوی محمد علی صاحب (سیکرٹری صدرانجمن) لکھتے ہیں کہ لاہور اور امرتسر سے سکھ صاحبان کے دو چیلنج شائع ہوئے ہیں کہ باوانا تک صاحب کے مسلمان ہونے کے متعلق مباحثہ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود نے نہایت تحقیق سے کتاب ”ست بچن میں یہ امر شائع کیا اور تین سال ہوئے ماسٹر عبدالرحمن صاحب نے بھی ایک کتاب باوانا تک صاحب کا چولہ لکھی حفظ امن کا انتظام کر لیا جائے وغیرہ تو ہمیں (38) مباحثہ منظور ہے (۱۲) آنحضرت کا دس کروڑ ہندوؤں پر احسان: رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ بابت ۴۳ ۱۹۴۲ء میں نظارت دعوۃ وتبلیغ نے ایسے لٹریچر کے ضمن میں جو افراد کی طرف سے شائع ہوا ایک ٹریکٹ بعنوانِ بالا ماسٹر صاحب کی طرف سے شائع ہونے کا ذکر کیا ہے۔(ص۴۶) (۱۳) معیار حق یا سچے مذہب کی شناخت سن طبع نا معلوم۔البتہ چونکہ حضرت مسیح موعود و علماء زمانہ حصہ اول ( تاریخ تصنیف ۱۹۰۷-۳-۱۵) کے آخر پر اس کا اشتہار ہے اس لئے اس سے قبل حضرت اقدس کے عہد مبارک میں شائع ہو چکی ہوگی۔قیمت پون آنہ اور ایک آنہ۔(۱۴۔۱۷) اخلاق محمدی، مشتمل پر چہار حصص دیباچہ حصہ اول میں وجہ تالیف یہ مرقوم ہے کہ ہم اور ہماری اولا داخلاق اسلامی کے زیور سے آراستہ ہوں تو پھر غیر مسلموں کو اسلام میں لے آنا مشکل امر نہیں۔وہ لوگ ہمارے اخلاق کو دیکھتے ہیں کہ کیسے ہیں۔سو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لئے احیاء العلوم اور مذاق العارفین سے کتاب ہذا کو تیار کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ اخلاق حسنہ کیا ہیں اور اخلاق سیہ کیا ہیں۔شیطان کے دھوکے سے کس طرح بچنا چاہیے۔گناہ کیا ہیں وغیرہ۔یہ سب کچھ آنحضر اور بزرگوں کے اخلاق کے آئینہ میں ظاہر کیا ہے۔