اصحاب احمد (جلد 7) — Page 46
46 ہو گئے اور انہوں نے بیعت کر لی۔السید عبدالحمید ابراہیم موصوف احمدیت کے قائل ہو گئے تھے مگر وہ خرطوم چلے گئے اور وہاں سے انہوں نے اخویم چوہدری محمد شریف صاحب مبشر بلاد اسلامیہ ( مقیم فلسطین ) سے خط و کتابت کر کے مبشر بیعت کر لی۔پروفیسر ولیم ویکسن امریکن انگریزی کتب کے مطالعہ کرنے سے مسلمان ہو گئے ان کا نام فاروق رکھا گیا ۱۹۳۶ء میں ہم اکھٹے عدن گئے پھر وہ امریکہ چلے گئے۔میں اپنے طور پر مصر شام اور فلسطین گیا اور ہر جگہ پیغام حق پہنچانے کی توفیق ارزاں ہوئی۔ابدال الشام میں سے السید منیر اٹھنی نے دمشق و بیروت میں سے بہت سے لوگوں سے میری ملاقات کرائی اور کہا کہ احمدی نو جوانوں کا حوصلہ دیکھو کہ تمام دنیا کے سامنے اپنے روشن عقائد پیش کرنے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے ، ان کے والد ماجد افسوس ہے آخر دم تک احمدیت سے محروم رہے۔ان سے میرا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ خاکسار کے والد نے سکھ مذہب ترک کر کے اسلام قبول کیا اور ہمیشہ اشاعتِ اسلام میں حصہ لیتے رہے تو ان کے والد جوش میں آکر کہنے لگے والده خَرجَ من الكفر و دخل فى الكفر (معاذ اللہ ) اور اپنے بیٹے سے محبت کے باوجود کہتے تھے یا ابنی اذبحک کہ بیٹا تم احمدی ہو گئے ہو دل کرتا ہے کہ تمہیں ذبح کر ڈالوں۔ایک دفعہ میں اور اخویم مولوی محمد سلیم صاحب ( سابق مبلغ بلا داسلامیہ حال دہلی ) دریائے اردن کے کنارے جہاں شاہ اردن امیر عبداللہ کے سیر و تفریح کے لئے خیمے لگے ہوئے تھے۔ان کے ساتھ کھڑے ہو کر ہم نے فوٹو کچھوائی۔انہوں نے ہماری دعوت کی اور ہم نے انہیں احمدیت کے متعلق لٹریچر پیش کیا۔ایک دفعہ عمان اور بیت المقدس کے درمیان شاہ موصوف سے میری ملاقات ہوئی۔سڑک خراب تھی اور وہ کار سے اتر کر اس کا معائنہ کر رہے تھے ان سے گفتگو ہوتی رہی یہ معلوم کر کے کہ میرے پاس ڈاکٹری کی ڈگری ہے انہوں نے عمان آکر ملنے کے لئے کہا اور پریکٹس کے لئے انتظام کرنے کا وعدہ کیا۔لیکن ۱۹۳۶ء میں عرب اور یہود فلسطین میں نبرد آزما تھے اور بہت زیادہ سیاسی شورش تھی میں وہاں نہیں جاسکا اور اگلے سال مشرقی افریقہ واپس چلا گیا۔۱۹۴۳ء میں میں عدن گیا اور عدن پر ڈٹیکٹوریٹ میں بطور میڈیکل آفیسر متعین ہوا۔دورے بھی کرتا اور تبلیغ بھی کرتا اور سلسلہ کی کتابیں تقسیم کرتا۔بارسوخ افراد نے اس بارہ میں گورنر سے شکایت کی اور مجھے سرکاری ملازمت سے نکلوانے کا مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے احمدیت میں داخل ہونے کا وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں حتی کہ جمعہ کے روز خطیب نے خطبے میں میرا ذکر کر کے کا فرقرار دیا۔عدن کی مسجد زعفران نامی میں مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا کہ میرے پیچھے کئی سو عرب اور سمالی لاٹھیاں