اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 18 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 18

18 سامنے کے درخت کو اُکھاڑ کر پھینک دیں گے یا کوئی اور قابل قدر کرامت دکھا کر ہمیں اپنے ایماندار ہونے کا ثبوت دیں گے۔اس جواب پر وہ نہایت شرمندہ ہو گئے۔آخر جب بار بار لڑکوں نے انہیں مجبور کیا کہ آپ ضرور جواب دیں تو انہوں نے نہایت دبی زبان سے کہا کہ ہم ایمان کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔میں نے کہا کہ ابھی آپ یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں کامل ایمان حاصل ہو گیا ہے اور کوئی شک وشبہ نہیں رہا۔اب ایک رتی بھر ایمان کے لئے کوشش کرنے کا اظہار کرتے ہیں۔اگر سفید ریش ہونے تک بھی کوشش کرنے سے آپ کو رتی بھر ایمان نصیب نہ ہوا تو اب کہاں امید ہوسکتی ہے کہ کامل ایمان حاصل ہو جاوے۔انہوں نے کہا کہ اچھا اب جانے دو۔سبق پڑھو۔میں نے کہا کہ اب سبق کا مزا نہیں رہا کیوں کہ ہمیں اور فکر دامنگیر ہورہا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی ہم سے پوچھے گا کہ تم کس سے پڑھ کر آئے ہو تو ہمیں مجبوراً یہی جواب دینا ہوگا کہ ہم ایسے استاد سے پڑھے ہیں جو قریباً بے ایمان تھے۔اس پر تمام لڑکے قہقہہ مار کر ہنس پڑے اور میں نے کہا صاحب جی ! ہم لوگوں کے ایماندار ہونے کی علامت یہ ہے کہ پیج ارکان اسلام کا پابند ہونا۔اور شرک اور فسق و فجور سے بکلی متنفر اور کنارہ کش ہونا اور شفقت علی خلق اللہ تعظیم لامر اللہ کا مصداق ہونا چاہیے۔سو ایسے اسلام میں ہزاروں ہیں اور وہ مزید ترقی (13) ،، اور شیطانی دستبرد سے محفوظ رہنے کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں مگر آپ لوگوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں کہ رتی بھر ایمان رکھتا ہو گویا سارے بے ایمان ہیں اسی طرح آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک یک چشم آریہ ہم جماعت نے ہنسی سے میری کتاب چھپائی۔وہ تناسخ کے متعلق مجھ سے بحث کیا کرتا تھا۔میں نے جماعت میں کہا کہ بعض بد کرداروں کو پر میشر گذشتہ کرموں کی پاداش میں سخت ترین سزا دیتا ہے اندھا کر دیتا ہے یا یک چشم بنا دیتا ہے ایسی سخت سزاؤں کے باوجود بھی وہ بے ایمانی سے باز نہیں آتے۔اس نے ناراض ہو کر کتاب پھینک دی۔میں نے کہا کہ پہلے جنم میں اس نے فسق و فجور سے زندگی بسر کی تو اسے آنکھ جیسی نعمت سے پر میشر نے محروم کیا۔پھر بھی یہ باز نہیں آیا نہ معلوم اس کی بدبختی اسے کہاں تک پہنچا دے گی۔اس کا ارادہ ہیڈ ماسٹر کے پاس شکایت کرنے کا تھا لیکن وہ رک گیا۔ورنہ میں سمجھتا تھا کہ اس صورت میں لوگوں کو گفتگو سے مزید فائدہ بھی پہنچے گا (14) ” طالب علمی میں بھی آپ کی زندگی پاکیزگی میں اسوہ تھی۔چنانچہ ایک آریہ سے گفتگو کے تعلق میں آپ لکھتے ہیں کہ بھیرہ میں میں ایک عرصے تک تعلیم پاتا رہا ہوں۔وہاں کا بچہ بچہ مجھ سے واقف ہے اور کوئی ذی عزت