اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 218 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 218

218 دوسری طرف محمد اسمعیل صاحب ہیں جو قریباً ان پڑھ ہیں اور معماری کا کام کرتے ہیں۔گوان کے کام کی نوعیت کی وجہ سے مجھے ان سے بھی واسطہ نہیں پڑا۔مگر ان کا اخلاص مختلف نوعیت سے ظاہر ہوتارہا ہے۔جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اخلاص کی بنا ایمان پر ہوتی ہے نہ کہ ظاہری تعلیم پر ، وہ بھی مخلص ہیں باوجود اس کے کہ آج میرے گلے سے بلغم زیادہ خارج ہو رہی ہے۔میں نے اس نکاح کے اعلان کو اپنے ذمہ لیا میں امید کرتا ہوں کہ مجھے ان دونوں پر جو حسن ظنی ہے وہ اس نکاح کے بعد آپس کے حسن سلوک سے نہ صرف قائم رہے گی بلکہ ترقی کرے گی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ فقرہ لمبے خطبہ نکاح سے زیادہ معنی رکھتا ہے اور فریقین کی نصیحت کے لئے لمبے خطبہ سے زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔(9) چوہدری صاحب فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان اور فضل ہے کہ ہمارا آپس میں نہایت اچھا سلوک ہے اور یہ سلوک حضور کی دعا کی قبولیت کا ثبوت ہے۔شوری میں شمولیت (10) اصحاب احمد کی جلد ۲ وغیرہ میں ۲۱ اپریل ۱۹۱۴ء کو منعقد ہونے والی شوری کا تفصیل سے ذکر آچکا ہے۔یہ شوری خلافت کے استحکام کے لئے منعقد ہوئی تھی تا پیغامی فتنہ کی سرکوبی کی جاسکے۔چنانچہ اس میں شامل ہونے والوں میں آپ کا نام منشی برکت علی خاں ہیڈ کلرک دفتر محاسب مرقوم ہے۔بعد میں شوری کے با قاعدہ قیام پر آپ کو بہت سے مواقع پر بطور عہدہ دار شرکت کا موقع ملا۔تقسیم ملک کے بعد کی کوئی رپورٹ اور پہلے کی بھی بعض رپورٹیں نہیں مل سکیں جو دستیاب ہوسکیں ان سے یہ معلوم ہوسکا ہے کہ (۱) شوری ۱۹۳۳ء میں آپ سب کمیٹی نظارت اعلی کے ممبر مقرر ہوئے۔اس وقت آپ صدر انجمن (11) احمدیہ کے آڈیٹر تھے۔اس سب کمیٹی میں صوبائی انجمنوں کے متعلق قواعد وضوابط کے متعلق فیصلے کئے گئے تھے۔(۲) شوری ۱۹۳۴ء میں بطور آڈیٹر ایک سب کمیٹی کے ممبر بنے جو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے مقرر فرمائی کہ ان اصحاب کو بجٹ میں آمد کی زیادتی اور خرچ کی کمی کے لئے جب دوران سال میں بلایا جائے تو ان کا فرض ہوگا کہ بغیر ناگزیر عذر کے آئیں، (12) اس پابندی سے اس سب کمیٹی کی اہمیت ظاہر کرنا مقصود ہے ورنہ روئے سخن قادیان سے باہر کے ممبران سب کمیٹی کی طرف تھا کہ جن کے آنے میں موانع ہوتے ہیں اور حضور کا ارشاد تھا کہ استعفیٰ دینے سے نیچے نیچے ہر کوشش کر کے بلانے پر آنا ضروری ہوگا۔