اصحاب احمد (جلد 7) — Page 216
216 تھے۔اس کے نمائندگان میں آپ کا نام ۷۴ انمبر پر منشی برکت علی خاں صاحب ہیڈ کلرک دفتر محاسب الحکم کے پر چہ مذکورہ بالا میں درج ہے۔قادیان میں تعمیر مکان : ☆ آپ نے قادیان میں ۱۹۲۰ء کے اختتام سے قبل محلہ دارالفضل میں اپنا مکان تعمیر کر لیا تھا۔یہ محلہ ۱۹۱۵ء سے آباد ہونا شروع ہوا تھا۔قادیان گائیڈ میں اس محلہ میں مکان بنانے والوں میں آپ کا نام یوں درج ہے۔۲۹۔چوہدری برکت علی خاں صاحب ہیڈ کلرک دفتر محاسب، (7) آپ کی ازدواجی زندگی چوہدری صاحب کی پہلی شادی دسمبر ۱۹۰۸ء میں محترمہ رحمن بی بی صاحبہ سے ہوئی جو ان کے ماموں چوہدری عالمگیر خاں صاحب ( ساکن موضع سروعہ ) کی دختر تھیں۔دوماہ بعد آپ انہیں قادیان لے آئے۔وہ نمازوں کی پابند اور موصیبہ تھیں۔ان کو حضرت اقدس کے وصال کے بعد بہت جلد قادیان آنے اور برکات سے مستفیض ہونے اور نیک ماحول میں رہائش رکھنے کا موقع ملا۔۱۹۱۸ ء کے انفلوئنزا میں فوت ہوئیں اور بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔چوہدری صاحب کی دوسری شادی ۱۹۲۰ء میں مرحومہ کی بہن محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ سے ہوئی۔وہ اپریل ۱۹۴۹ء کو وفات پا کر بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔وہ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھیں اور ان کی طرف سے تقریباً ڈیڑھ صد رو پیدادا ہوا تھا۔(8) چوہدری صاحب نے اپنی لڑکیوں کی شادی میں قومی رسوم کو جو اُن کی قوم کے رگ وریشہ میں صدیوں سے سرایت کر چکی تھیں یکسر ترک کر دیا۔آپ اس بارہ تحریر فرماتے ہیں۔مسلمان راجپوت قوم دو آبه بست جالندھر یعنی ہوشیار پور و جالندھر میں بکثرت پائی جاتی تھی اور ابتدا یہ لوگ ہندو راجپوتوں میں سے شاہجہان بادشاہ کے عہد میں مسلمان ہوئے تھے۔ہندوراجپوتوں کی کثرت سے آبادی کو ہ شوالک کی پہاڑیوں میں جن کا دامن شملہ سے جموں تک چلا گیا ہے آباد ہے اور دوآبہ بست جالندھر کے مختلف مقامات پر بھی ہندو راجپوت پائے جاتے ہیں۔ہندو راجپوتوں میں ایک رسم بیوہ کا نکاح ثانی نہ کرنا ہے خواہ شادی کے دوسرے دن اس کا خاوند فوت ہو جائے۔دوسری رسم یہ تھی کہ یہ راجپوتوں (۱) تفصیل کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد ۲ ص ۳۷۶