اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 195 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 195

195 گڑ رضی چوہدری برکت علی خان صاحب گره مشتری یا امین اللہ تعالی عنہ ولادت۔وطن D حضرت چوہدری برکت علی خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ محترمہ لکھاں بی بی دختر چوہدری ستھے خان صاحب کے بطن سے چوہدری میراں بخش صاحب کے ہاں بمقام گڑھ شنکر ضلع ہوشیار پورے ۸۔۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئے۔والدین راجپوت نسل سے تعلق رکھتے تھے۔آپ اکلوتی اولاد تھے۔نہ آپ کا کوئی بھائی تھا اور نہ کوئی بہن۔آپ کے والد ماجد ان پڑھ ، خاموش طبع اور نہایت سادہ زندگی بسر کرنے والے تھے۔غیر احمدی ہونے کی حالت میں بھی وہ نماز با جماعت مسجد میں آکر پڑھنے کے پابند تھے۔ان کے ایک غیر احمدی دوست تھے جن کے ساتھ انہیں بہت محبت تھی وہ پکے نمازی تھے جب کبھی رشتہ داروں کے ہاں جانا ہوتا تو اکٹھے جاتے دونوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خاکسار مؤلف نے پندرہ سال تک چوہدری صاحب سے سوانح قلم بند کر دینے کا مطالبہ جاری رکھا وہ اپنے حد درجہ ☆ انکسار کے باعث اس سے احتراز کرتے تھے حتی کہ لمبے عرصہ تک کبھی تصویر بھی نہ کھنچوائی تھی۔بحمدللہ بالآخر کامیابی ہوئی اور جولائی سال گذشتہ میں آپ نے میری عرض قبول کر کے حالات تحریر کر کے ارسال فرمائے۔احباب دیکھیں گے کہ مرحوم کے بعض ہم وطن بزرگوں کا بھی ان میں ذکر ہے جن کے متعلق مزید تفصیل خاکسار کے مطالبہ پر آپ نے رقم فرمائی اور غالبا ان بزرگوں میں سے اکثر کے متعلق مزید حالات کہیں سے بھی دستیاب نہ ہوسکیں گے خاکسار نے بالعموم آپ ہی کے الفاظ میں حالات درج کئے ہیں تا ان کی تاثیر قائم رہے آپ کی اجازت سے شاذ کے طور پرا کاد کا لفظ تبدیل کیا ہے یا اختصار کیا ہے۔آپ نے حالات ارسال کرتے ہوئے اپنے مکتوب مورخہ ۱٫۷٫۵۹ میں تحریر فرمایا۔آپ بڑے استقلال اور پختہ عزم کے ساتھ ایک بہت بڑے لمبے عرصے سے مجھے توجہ دلاتے آرہے تھے کہ میں اپنے حالات لکھ کر آپ کے پیش کروں میں اپنے آپ کو اس قابل ہر گز نہ پاتا تھا کہ میرے حالات سے بھی کسی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کیوں کہ میں ایک مستور اور نا قابل ذکر شخص ہوں۔اور گو میرے پر یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل واحسان ہوا ہے کہ میں ایک عرصہ تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک صحبت میں رہا ہوں مگر مجھے نہایت افسوس اور رنج ہے کہ میں اس زمانہ کی حضور کی باتیں یاد نہیں رکھ سکا۔کیونکہ میرا وہ بچپن کا زمانہ تھا اور میں سمجھ رہا تھا کہ سب کچھ تو حضور کے پاکیزہ کلمات کا حصہ الحکم میں آجاتا ہے۔اس لئے میں کیا لکھوں مگر آپ کے مستقل اصرار نے مجبور کیا کہ میں اپنے حالات جو بھی ہیں ان کو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں آپ کے پیش کر دوں۔۔۔میری غلطی سے چشم پوشی کر کے ان کو درست کر لیں۔بشرطیکہ آپ میرے ان حالات کو اصحاب احمد ( میں ) شائع کرنا پسند فرماویں۔اگر آپ کو پسند نہ آئے تو مجھے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور نہ آپ پر ذرہ بھر شکوہ ہوگا۔کیوں کہ میرے حالات ہی قابل اشاعت نہ تھے۔میں آپ سے استدعا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ میرے لئے انجام بخیر کی دعا فرمائیں اور دوسرے دروایشان سے بھی اگر فرما دیں تو مزید احسان ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہی ہم سب اور آپ سب کے ساتھ ہو۔آمین