اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 182 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 182

182 آکر آپ کے درس قرآن سے فیض یاب ہوتے رہے جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے آپ خوشنویس بھی تھے۔اسی تعلق میں ایک واقعہ کا ذکر مناسب خیال کرتا ہوں۔یہ امر محتاج ذکر نہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح اوّل کو علمی کتب کا بڑا شوق تھا جہاں بھی آپ کو کسی خاص علمی کتاب کا علم ہوتا آپ اسے بڑی قیمت دے کر بھی حاصل کرتے۔چنانچہ آپ کے اس شوق کے پیش نظر یا آپ کی ظاہر کردہ خواہش کے پیش نظر ایک نایاب کتاب جو آپ کو بہت پسند تھی اس کا قلمی نسخہ نہایت خوش خط لکھ کر والد صاحب نے تیار کیا اور آپ کی خدمت میں پیش کیا جسے دیکھ کر حضرت خلیفہ اول نہایت خوش ہوئے اور بڑی قدر دانی کے جذبات کے ساتھ اسے قبول فرمایا۔مرکز کے ساتھ آپ کو جو انس تھا وہ آپ کے اس عمل سے ظاہر ہے کہ باوجود اس کے کہ عرصہ دراز تک آپ کی ملازمت سرگودھا میں ہی رہی اور یہ مقام اب گویا گھر کی طرح تھا۔مگر قادیان کے ہوتے ہوئے کبھی یہ خیال بھی نہ آیا کہ سرگودھا میں کوئی مستقل رہائش کی جگہ بنائیں۔آپ نے اگر کوئی مکان بنایا تو وہ قادیان ہی میں بنایا۔یہ زمانہ ۲۵ ء کا تھا۔آپ کا عرصہ ملازمت ابھی کافی باقی تھا مگر اس خیال سے کہ قادیان ہی ہماری زندگی کا محور ہے اپنی اور اپنی اولاد کی مستقل رہائش کی طرح وہیں ڈال دی۔اس زمانہ میں جو جگہ آپ نے مکان کے لئے خریدی وہاں کوئی آبادی نہ تھی سارے محلہ دارالبرکات میں کل دو تین ہی مکان تھے۔باقی سب جگہ خالی پڑی تھی یا کھیتی باڑی کے کام آتی تھی۔ایسے حالات میں وہاں کی رہائش خطرہ سے خالی نہ تھی اور بہت دفعہ ان مشکلات کا سامنا بھی ہوا۔مگر خدا کے وعدوں پر آپ کو کامل یقین تھا کہ وہ وقت دور نہیں ہے کہ یہ سب جگہ احمدیت کے پروانوں سے آباد ہو جائے گی اس لئے ایسا قدم اٹھانے میں آپ نے ذرا تامل نہ کیا۔اسی طرح ہجرت کے بعد پاکستان میں بھی جب یہ مسئلہ ان کے سامنے پیش آیا کہ اب رہائش کس جگہ اختیار کی جائے اس وقت بھی آپ کے ان ہی اندرونی جذبات نے کام کیا۔بہت بے سروسامانی کا عالم تھا کافی بھاگ دوڑ کی بہت سے پرانے تعلق داروں سے اور رشتہ داروں سے ملاقات کی۔کئی ہمدردوں نے ہر قسم کی سہولت کے سامان بھی پیش کئے مگر مرکز سے دور کسی جگہ طبیعت کو سکون نہ ملا اور آخر کار اپنے آقا کے قدموں میں ہی رہائش کو تر جیح دی۔” مومن کی ایک شان یہ ہوتی ہے کہ اس کا دل مسجد میں گھبا ہوتا ہے۔یہی کیفیت آپ کی تھی تمام نمازوں کے لئے حتی الوسع آپ مسجد تشریف لے جاتے اور بہت کم گھر میں نماز ادا کرتے۔مسجد میں اگر صبح یا شام کے وقت کوئی درس کا سلسلہ ہوتا تو اس میں ضرور شامل ہوتے۔طبیعت کے لحاظ سے آپ بہت سادہ اور متحمل مزاج تھے دینی غیرت آپ میں بہت تھی مگر ویسے کسی کو غصہ ہوتے بہت کم دیکھا گیا، اللہ تعالیٰ کے احسانات پر ہمیشہ قانع