اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 179 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 179

179 علاقہ میں ہی گزارا۔اس زمانے میں خاکسار کے بڑے بھائی مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب انور اور ان کے بعد یہ عاجز تعلیم دینی کی غرض سے اپنے والدین سے جدا ہو کر قادیان میں ہی رہے۔محترم والد صاحب سنایا کرتے تھے کہ تمہارے دادا کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے دو بیٹوں کو ( یعنی والد محترم اور ان کے چھوٹے بھائی مکرم سعد اللہ صاحب) کو دینی تعلیم دلوائیں۔ایک کو مولوی بنائیں اور ایک کو حافظ قرآن۔مگر افسوس کہ وہ اپنی زندگی میں اس خواہش کو پورا نہ کر سکے۔اب میری خواہش ہے کہ تم اپنے دادا کی اس نیک خواہش کو پورا کرو۔چنانچہ اسی غرض کے لئے انہوں نے ہمیں قادیان بھجوایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس خواہش کو صحیح معنوں میں پورا کرنے والے بنیں۔سلسلہ سے عقیدت اور تبلیغ میں جب والد صاحب محترم کی زندگی پر نظر کرتا ہوں تو علاوہ دیگر بہت سے اوصاف کے ایک چیز آپ میں بہت نمایاں نظر آتی ہے اور وہ ان کا سلسلہ کے ساتھ عقیدتمندانہ تعلق ہے۔آپ جہاں جہاں بھی اپنی ملازمت کے دوران میں رہے۔احمدیت کا بیج بھی ساتھ ساتھ بکھیر تے گئے۔اپنے قول سے بھی لوگوں کے لئے ایک نمونہ بنے۔نہر کا محکمہ رشوت کے سلسلہ میں کافی بدنام ہے مگر جن لوگوں کے ساتھ بھی آپ نے کام کیا ہے وہ اس بات کے زندہ گواہ رہیں گے کہ آپ نے کبھی بھی رشوت نہیں لی بلکہ اسے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔والد صاحب محترم نے مجھے ایک دفعہ سنایا کہ ایک موقع پر کسی نے زبر دستی آپ کی جیب میں کچھ روپے ڈال دیے تو آپ نے غصہ کے ساتھ تمام لوگوں کے سامنے وہ روپے نکال کر باہر پھینک دیے جس سے وہ شخص بہت ہی نادم ہوا۔یہی آپ کی دیانت تھی کہ آپ اپنے سارے محلے میں عزت اور احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔آپ کی اس صفت کا اظہار ایک دفعہ کھلے بندوں محکمہ نہر کے ایک ماہوار رسالہ میں ہوا۔جس میں ذکر تھا کہ سرگودھا ڈویژن کو بجا طور پر اپنے دو ملازمین پر فخر ہے جو اپنی دیانت اور امانت میں جواب نہیں رکھتے ایک نام ان میں سے والد صاحب محترم کا تھا۔بہر حال دیانت اور امانت کے لحاظ سے آپ نے اپنی زندگی میں جس اعلیٰ کردار اور اخلاق کا مظاہرہ کیا وہ حقیقتاً احمدیت کی ایک عملی تبلیغ تھی جو ایک بہت بڑی خصوصیت تھی۔خصوصاً اس وجہ سے کہ آپ کی احمدیت کوئی چھپی ہوئی بات نہ تھی۔ہر شخص جو آپ کے نام سے واقف تھا وہ اس بات کو بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ آپ احمدی ہیں اور اسی کو اپنا دین وایمان یقین کرتے ہیں۔آپ نے سرگودھا شہر میں ایک لمبا عرصہ باقاعدہ طور پر جماعت کی خدمت کے فرائض انجام دیئے۔پہلے آپ کچھ وقت پریذیڈنٹ رہے اور پھر جب جماعت کو امارت کی سعادت نصیب ہوئی تو یہ اعزاز بھی آپ کو آپ کے وہاں قیام تک حاصل رہا۔چنانچہ آپ کا دن رات خدمت دین کے ہی ماحول میں