اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 176 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 176

176 یاد داشتوں کا اہتمام وفات کے ایام میں ربوہ میں اسٹور کیپر تھے تو جو آخری دنوں میں بعض رقوم کی رسیدات کاٹیں اور ریزگاری کے نہ ہونے کی وجہ سے جو قلیل رقوم بعض اشخاص کی قابل ادا تھیں ان کو اسی رسید پر ہی درج کیا جن کی ادا ئیگی اس یادداشت کی بناء پر متعلقہ احباب کو کر دی گئی۔اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے متعلقہ اہم واقعات کی تاریخوں کو مفصل ایک علیحدہ کاپی میں لکھا۔جیسے وفات۔نکاح۔تاریخ پیدائش وغیرہ۔بطور نمونه، یادداشت وفات قاضی ضیاء الدین صاحب تحریر فرمایا۔قاضی ضیاء الدین صاحب مورخه ۱۵ رمئی ۱۹۰۴ء بروز سوموار بوقت شام بمقام قادیان دارالامان فوت ہو کر گاؤں کے مشرق والے ایک قبرستان میں دفن ہوئے۔پختہ چار دیواری والی خانقاہ کے عین متصل جانب جنوب نز د دروازہ مطابق ۳ جیٹھ سمہ ۱۹۶۱ء بکرمی۔“ نمونہ تقریب رخصتانہ عزیزہ حلیمہ سعدیہ کا رخصتانہ ہمراہ محمد عابدر یجان مؤرخہ ۱۰/۴۹/ ۲۰ کو بمقام ربوہ ہوا جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے شمولیت اختیار کی اور دعا فرمائی۔حضور کی شمولیت اور رخصتانہ اور دعا کار بوہ میں یہ پہلا واقعہ ہے۔کوئی چائے یا دعوت نہ دی گئی حسب منشاء حضرت صاحب۔“ ایک ایمان افروز تاریخی یادداشت کی حفاظت قاضی ضیاء الدین صاحب جب پہلی مرتبہ قادیان تشریف لائے تو انہوں نے مسجد اقصیٰ کی چونے گچ دیوار پر کالی سیاہی سے فارسی میں اپنی دلی کیفیت لکھ کر اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ کاش حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر اس پر پڑ جائے اور حضور ان کے لئے دعا فرماویں کہ وہ قادیان کے ہی ہو جائیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کو نوازا اور حضور علیہ السلام کی نظر اس تحریرہ پر پڑی اور حضور نے دعا فرمائی اس موقع کو تلاش کر کے سفیدی کو ہٹایا تو وہ عبارت اب بھی پڑھی جاتی ہے وہ عبارت حسب ذیل ہے۔منقول از بیاض قلمی تحریر کردہ قاضی ضیاء الدین صاحب احمدی مرحوم نقل کتبه طاقچه مسجد جامع قادیان کہ راقم الحروف مسکین ضیاءالدین عفی عنہ۔بتاریخ ۷ فروری ۱۸۸۵ء بار اول کے در آن جا رسید حسب حال خود نوشته بود فی الحال ۱۳ / جنوری (19) ۱۸۹۶ نقل ازاں برداشته شد و هو هذا قال الله تبارک و تعالیٰ وَاتَّقُو اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔مصداق این آیتہ شریفہ فی الوقت ذات بابرکات جناب مرزا غلام احمد صاحب است سلمہ اللہ الصمد حقیر یه روز بخدمتش مستفیض ماند۔ہر روز در ایمان خودنورے تازہ مشاہدہ کر د علم ایں معلوم بہ بصارتے کہ کل متابعت