اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 164 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 164

164 ہوئے (۱۰) اس وقت محلہ دار البرکات کے مکانات واقعہ ریلوے روڈ سہولت انتظام کی خاطر دارالفضل کے ساتھ شامل تھے۔(۳) حضرت مسیح موعود کی وفات کی خبر ملنے پر انجمن سرگودہانے جلسہ کر کے حضور کے مناقب بیان کئے اور حضور کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے ساڑھے سترہ روپے چندہ جمع کر کے قادیان بھجوایا اس میں ایک روپیہ مولوی صاحب کی طرف سے تھا (1) آپ اس وقت امین نہر کوٹ مومن تھے غالبا اس طریق کے اختیار کرنے میں یہ جماعت میں منفرد تھی۔(۴) موصی ہونے کے علاوہ آپ تحریک جدید کے دفتر اول کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل ہوئے اور والدین اہلیہ محترمہ اور اپنی طرف سے ہر سال اضافے کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے پانصد چون روپے ادا کئے (12) قادیان سے ہجرت کرتے ہوئے آپ دس سالہ سر ٹیفکیٹ بحفاظت اپنے ساتھ لائے تھے۔اساتذہ کی قدر دانی آپ ہمیشہ اپنے اساتذہ اور مہربانوں کا جنھوں نے کسی وقت امداد کی تھی ذکر نہایت ہی محبت اور عزت سے کیا کرتے تھے۔مکرم مولوی محمد حسین صاحب ساکن پھلو کے ( ضلع گوجرانوالہ ) سے آپ نے کسی حد تک فن حکمت سیکھا تھا۔اس لئے ان کے فوت ہو جانے پر باوجودیکہ اپنا گزارہ معمولی تھا ان کے لڑکے کو اپنے خرچ پر قادیان میں تعلیم دلانے کی کوشش کی تاکہ کسی حد تک ان کے احسان کا بدلہ دے سکیں۔فن کتابت جن اساتذہ سے سیکھا تھا ان کی دی ہوئی اصلاحوں کو آپ نے نہایت محفوظ رکھا ہوا تھا اور بچوں کو دکھلاتے رہتے تھے۔شوری میں شمولیت آپ جس جماعت میں بھی قیام رکھتے تھے سلسلہ کے کاموں میں دلچسپی لینے کے باعث شوری میں شمولیت کے لئے منتخب ہوتے تھے۔جب آپ پنشن لے کر قادیان آئے تو تحریک جدید دار الصناعۃ کے سپرنٹنڈنٹ ہونے کے باعث تحریک جدید کی طرف سے بطور نمائندہ شامل کئے جاتے رہے۔اور ربوہ ہجرت کرنے کے بعد بوجہ صحابی ہونے کے آپ کو شمولیت کا موقع ملتا ہا۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۲۲ء میں شوریٰ کے باقاعدہ انعقاد کی بنیاد ڈالی۔اس لئے اس سال کی شوری بہت اہمیت کی حامل تھی۔اس میں آپ کو نہ صرف بطور نمائندہ شریک ہونے کا موقع ملا۔بلکہ جیسا کہ سرورق (ص۲) میں مکرم سیکرٹری صاحب مشاورت نے ذکر کیا ہے مکرم منشی غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل کو شوری کی کاروائی قلمبند کرنے اور ترتیب دینے اور آپ کو اور مکرم منشی محمد دین صاحب محرر کو اس کے مسودہ