اصحاب احمد (جلد 7) — Page 154
154 تمہید میں لگا کر اس بات پر زور دیتا رہا کہ مَنْ يَّقُلْ مِنْهُمُ انّى الة۔۔۔الخ) (۳) جو شخص خدا ہونے کا دعویٰ کرے وہ ایسا ہوتا ہے ویسا ہوتا ہے اصل بات کی طرف نہ آیا ، احمدی جماعت کے لوگ گھبرا گئے کہ اصل بات کیوں نہیں بتاتا کہ کیا دعویٰ حضرت مرزا صاحب نے کیا ہے لیکن قاضی ضیاء الدین صاحب نے اس کو روکنا مناسب نہ سمجھا۔بڑی دیر کے بعد اس نے حضرت صاحب کے کشف کو عربی عبارت میں پڑھنا شروع کیا کہ وہ کہتے ہیں۔رَتَنِي فِي الْمَنَامِ عَيْنَ اللَّهَ (*) اور عین اللہ پر بار بارز ور دیتا اور تشریح یہ کرتا تھا وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ہی زمین کو اور آسمان کو بنایا وغیرہ وغیرہ۔قاضی صاحب نہایت خوش ہوئے اور انہوں نے جھٹ وہی کتاب نکال رکھی۔چنانچہ قاضی صاحب نے اصل کتاب سے حضرت صاحب کی اپنی عبارت جو بطور تشریح بیان کی ہے پڑھی اور يتـقـرب الـيَّ عبدي بالنوافل (۴) والی حدیث سے تشریح کی اور پھر بایزید بسطامی اور منصور کا قول انا الحق اسی رنگ میں بیان کیا تو وہاں جس قدر حنفی لوگ تھے وہ جواب کی تصدیق کے لئے پر زور نعرے مارنے لگ گئے اور مولوی زین العابدین اور اس کے ساتھیوں کے متعلق اظہار نفرت کرنے لگ گئے کہ یہ وہابی لوگ اولیاء اللہ کے منکر ہیں اس لئے ایسے خشک اعتراض کرتے ہیں غرضیکہ اسی طرح سے مولوی زین العابدین جس نے یہ شرارت اٹھائی تھی اس کی نمایاں ذلت ہوئی اور وہ اس کا کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔غرضیکہ قاضی صاحب نہایت فتح اور خوشی کے ساتھ واپس گئے۔اس مناظرہ کے موقع پر جب قاضی صاحب کے ساتھیوں نے فتح کی خوشی میں ان کو یہ کہا کہ چلو اب چلیں تو قاضی صاحب نے ایک حکمت کا نکتہ یہ بیان کیا کہ مناظرہ کے بعد میدان پہلے نہیں چھوڑ نا چاہیے۔کیونکہ مخالف یہ شور مچادیتے ہیں کہ دیکھو یہ لوگ بھاگ گئے اور اس طرح سے فتح شکست سے تبدیل ہو جاتی ہے۔چنانچہ قاضی صاحب تھوڑی دیر بیٹھے رہے اور مخالفین کے روانہ ہونے کے بعد اطمینان کے ساتھ میدان مناظرہ سے روانہ ہوئے اور خدا کے فضل سے ہر رنگ میں فاتحانہ طور پر کامیاب واپس آئے۔یہ پہلا مناظرہ تھا جو میں نے اپنی عمر میں احمدی جماعت کے ساتھ ہوتا ہوا دیکھا اور سنا۔اس مناظرہ کا اثر میری طبیعت پر یہ ہوا کہ مجھے مخالف علماء سے نفرت بڑھ گئی اور مجھے واضح ہو گیا کہ یہ لوگ حضرت صاحب کے منشاء کے خلاف ان کی عبارتوں کو توڑ موڑ کر غلط طریق پر پیش کرتے ہیں اور اس طرح سے اپنی کمزوری کو چھپاتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے اور دھوکا دیتے ہیں اور دن بدن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صدق و دعوی کا خیال ترقی کرتا گیا۔حتی کہ جوں جوں مخالفوں سے اعتراضات سنے اور ان پر غور کرنے کا موقع ملاتوں توں حضور کی صداقت آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴ میں اس رویا کا زکر ہے (مؤلف)