اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 152 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 152

152 ترتیب موت کی رفع سے پہلے ہونے کی آیت میں موجود ہے اس کے برخلاف اس نے بیان کیا کہ اگر چہ یہاں پر وفات کا لفظ پہلے اور رفع کا بعد میں ہے لیکن در حقیقت رفع پہلے ہوا ہے اور بعد میں وفات کا واقعہ ہوگا۔جب مسیح دوبارہ آسمان سے نازل ہوگا تو زندگی بقیہ گزار کر فوت ہوگا اور یہ کوئی ضروری امر نہیں ہے کہ جس ترتیب میں قرآنی الفاظ ہوں واقعہ بھی اسی ترتیب کے ساتھ ہو۔بلکہ بعض اوقات واقعات کے لحاظ سے قرآنی ترتیب کو بدلنا پڑتا ہے۔تب معنی درست ہوتے ہیں اور یہی صورت حال یہاں پر ہے۔چنانچہ ترتیب قرآنی کو الٹنے کی مثال میں اس نے سورہ توبہ کی یہ آیت پڑھی فَاقْتُلُو الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ (۳) حالانکہ اگر قتل کرنے کا فعل پہلے واقعہ ہو جائے تو پھر پکڑنے کا اور اس کے بعد گھیرنے کا اور گھات میں بیٹھنے کا کام لغو اور بے مطلب ہو جائے گا۔اس لئے اس کے معنی الٹی طرف سے کئے جائیں گے۔تب درست بیٹھتے ہیں کہ مشرکوں کے لئے پہلے گھات لگاؤ پھر گھیر لو، پھر پکڑ لو، پھر ان کو قتل کر دو۔مجھے مولوی نوراحمد کی یہ دلیل لا جواب معلوم ہوئی اور مجھے اسی وقت اس کے سامنے ماننا پڑا کہ ہاں ترتیب کو الٹانے کے بغیر آیت کے معنی حل نہیں ہو سکتے ، اسی پر مولوی نور احمد نے اپنی اس کتاب میں میرے رجوع کا حال بھی تحریر کر دیا جس کا مجھے کو سخت صدمہ ہوالیکن چونکہ اس کی دلیل کا میرے دل پر تسلی وہ اثر نہ تھا۔اس لئے میں اسی جستجو میں رہا آخر احمدی علماء سے دریافت کرتے کرتے مجھے معلوم ہو گیا کہ اس کا استدلال بمثل سراب ایک قسم کا دھوکا تھا۔اول اس وجہ سے کہ یہاں آیت کا یہ منشا نہیں ہے کہ جن کو قتل کر دیا گیا ہے انہی کو پکڑنا ہے اور پھر گھیرنا ہے۔بلکہ مشرکین کا گر وہ جو تم نے پکڑ لیا ہے اس کو تو قتل کر دو جو بھاگ رہا ہے اس کو پکڑ لو ، پھر جن کوگھیر نے کی ضرورت ہے، ان کو گھیر واور جو چھپے بیٹھے ہیں ان کے لئے گھات لگاؤ، گویا مختلف حالات کے ماتحت مختلف حکم ہے دوسرے اگر غیر طبعی ترتیب معلوم ہونے کی وجہ سے مولوی صاحب کے خیال میں ترتیب الٹنے کی ضرورت ہے تو پھر مُتَوَفَّيْكَ وَرَافِعُكَ کی ترتیب میں تو کوئی ایسا اشکال ہی نہیں ہے کہ اس کو الٹنے کی ضرورت ہو۔بلکہ عام قانون الہی تو اسی ترتیب کو چاہتا ہے۔اسی واقعہ سے مولویوں کی قیل وقال کے متعلق مجھے تجربہ ہوگیا۔ب۔ایک دفعہ موضع بوتالہ کے نزدیک موضع نت میں جہاں کہ کشمیری قوم کے لوگ عموماً احمدی تھے اور مالکان اور زمینداران وغیرہ سب کے سب اہل حدیث اور سلسلہ کے مخالف تھے وہاں مولوی زین العابدین (اہل حدیث ) ساکن کوٹ بھوانی داس نے آکر زمینداروں کو وعظ کیا ( یہ مولوی زین العابدین لاہور کے مدرسہ حمیدیہ میں عربی کا مدرس اور فاضل آدمی تھا ) دوران وعظ میں بیان کیا کہ لوگو آگے تو مرزا نبی بنتے تھے اب انہوں نے خدائی کا دعویٰ بھی کر دیا ہے، اس پر ان زمینداروں نے جن کی قوم نت تھی۔کشمیریوں کو بلایا اور مولوی صاحب کے پیش کیا