اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 140 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 140

140 پیاسے تھے اپنے ہی جب خون کے تو امید رکھتا میں کیا غیر فراق وطن اور غم اقرباء کے لئے گوارا کیا خدا کیا ترک سب عیش و آرام کو چھوڑا مگر دین اسلام کو وہ دیں جس کو لائے تھے خیر الانام سچائی میں جس کی نہیں کچھ کلام (152) سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک خطبہ میں تعلق باللہ کی اہمیت پر زور د دیتے ہوئے ذکر الہی سے رویا و کشوف کی عظیم الشان نعمت حاصل کرنے کی تلقین فرمائی۔اور فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ لو آپ اس امر پر کتنا زور دیا کرتے تھے کہ پرانے نبیوں کی باتیں اب قصوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں۔اگر تم تازہ نشان دیکھنا چاہتے ہو تو میرے پاس آؤ اور میرے نشانات کو دیکھو۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں لوگ نئے نشانات کے محتاج تھے تو اب بھی محتاج ہیں اور اگر ایسے نوجوان ہماری جماعت میں ترقی کرتے چلے جائیں اور بیسیوں سے سینکڑوں اور سینکڑوں سے ہزاروں ہو جا ئیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔“ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ماسٹر عبدالرحمن صاحب جالند ہری کی یہ عادت ہوا کرتی تھی کہ ذرا کسی آریہ یا کسی مخالف سے بات ہوئی تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نقل میں بڑی دلیری سے کہہ دیتے کہ اگر تمہیں اسلام کی صداقت میں شبہ ہے تو آؤ اور مجھ سے شرط کر لو۔اگر پندرہ دن کے اندراندر مجھے کوئی الہام ہوا اور وہ پورا ہو گیا تو تمہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور پھر اشتہار لکھ کر اس کی دکان پر لگا دیتے چنانچہ کئی دفعہ ان کا الہام پورا ہو جا تا اور پھر وہ آریہ ان سے چھپتا پھرتا کہ اب یہ میرے پیچھے پڑ جائیں گے اور کہیں گے کہ مسلمان ہو جاؤ۔تو اگر یہ نمونے قائم رہیں تو غیر مذاہب پر ہمیشہ کے لئے اسلام اور احمدیت کی فوقیت ثابت ہو سکتی ہے اور اگر یہ نمونے نہ رہیں یا ہماری جماعت کے دوست اس عارضی دھکہ کو جو میری بیماری کی وجہ سے انہیں پہنچا ہے اپنی مستقل نیکی اور توجہ الی اللہ کا ذریعہ نہ بنا ئیں تو ہو سکتا ہے کہ اس میں وقفہ پڑ جائے جیسے رسول کریمہ کے بعد وقفہ پڑا اور اسلام لوگوں کو صرف ایک قصہ نظر آنے لگا۔لیکن اگر انہوں نے اس انعام کو مستقل بنالیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ برکات جاری رہے گا اور ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک یہ سلسلہ اسی طرح پہنچے گا۔(153)