اصحاب احمد (جلد 7) — Page 135
135 لڑکے تعلیم مکمل نہیں کر سکے اور ایک حد تک انہوں نے وہ کام بھی کئے جو ماسٹر صاحب کی زبان سے نکلے تھے۔آپ کو گورمکھی سکھانے کا بہت شوق تھا۔چنانچہ میری درخواست پر آپ نے اس کے قاعدے منگوا کر مفت تقسیم کئے اور ہمیں مدرسے کے وقت کے بعد گورکھی پڑہاتے رہے۔موسمی تعطیلات پر جانے سے قبل طلباء کو نصائح فرماتے جن میں تعلیمی وتبلیغی نصائح کے علاوہ حفظان صحت سے متعلق نصائح بھی شامل ہوتیں آپ فرماتے کہ سونے سے قبل تیل مل کر سونا چاہیے اس طرح مچھر نہیں کا تھا۔صبح سویرے سیر اور ورزش کرنا سو بیماریوں کا علاج ہے۔میں ہر روز ورزش کرتا ہوں اس میں ناغہ نہیں کرتا اور سال میں دوبار جلاب لیتا ہوں۔مجھے بیس سال سے بخار نہیں ہوا ( بیان اخویم مولوی سلطان احمد صاحب) ماسٹر صاحب نے سنایا کہ ایک دفعہ میں قادیان کے ہند و بازار میں سے گزرا۔بے پناہ گرمی پڑ رہی تھی۔چند ہندوؤں نے کہا کہ آپ ہر روز دعا کی برکات بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے، آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ آج بارش بر سادے تا گرمی دور ہو۔آپ نے ان کی طنزر وتمسخر کو بری طرح محسوس کیا اور آپ کی غیرت جوش میں آئی۔آسمان بالکل صاف تھا۔آپ مسجد اقصیٰ میں جا کر اس وقت تک دعا میں مصروف رہے جب تک بارش کی وجہ سے آپ کے کپڑے گیلے نہ ہو گئے۔فرماتے تھے کہ میں ہندوؤں سے جب بھی اس نشان کا ذکر کرتا تو وہ شرمندہ ہو کر آنکھیں نیچی کر لیتے۔(بیان اخویم موصوف ) (بیان اخویم موصوف ) فرماتے تھے کہ میری بڑی بیوی شدید بیمار ہوگئیں اور ان کی زندگی کی امید باقی نہ رہی تو میں نے دعا کی کہ میری بیٹیاں قابل شادی ہیں، اگر ان کی والدہ کی موت مقدر ہے تب بھی تو ان کی شادیوں تک تو اسے ٹال دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا عطا کر دی اور بچیوں کی شادیاں ہونے کے بعد وفات ہوئی۔اس بارہ میں سردار بشیر احمد صاحب مزید بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب نے مجھے لکھا کہ دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے الہام کیا و املیت لها وهي رميم كہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری والدہ کو مہلت دی ہے حالانکہ ان کا جسم اور ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔آپ کے جوش تبلیغ کے متعلق کیپٹن ڈگلس کی رائے بہت وقیع ہے انہوں نے ماسٹر صاحب کے پرسنل رجسٹر میں سالانہ رپورٹ میں یہ الفاظ لکھے تھے۔He is an able teacher but fanatic“ کہ آپ قابل مدرس ہیں لیکن آپ کو مذہبی جنون ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام عزہ رقم فرماتے ہیں۔(ماسٹر صاحب ) خدا کے فضل سے تبلیغ کے نہایت دلدادہ ہیں ابھی گذشتہ ایام میں انہیں اس بات کے لئے جیل خانے میں جانا پڑا کہ انہوں نے با وانا تک صاحب کو مسلمان لکھا تھا۔مگر انہوں نے اس تکلیف کو نہایت