اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 126 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 126

126 حضور کی ذاتی خدمات قیام دار امسیح اور تعلیم صاحبزادگان کے مواقع ملنا ملے۔سچ ہے حضرت ماسٹر صاحب اور آپ کی اہلیہ محترمہ کو حضرت اقدس کی بعض خدمات سرانجام دینے کے مواقع این سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشنده الہام فرمایا تھا دونوں کو دار ایسے میں قیام کا شرف حاصل ہوا۔ہاں اس گھر میں جس کے متعلق حضرت باری تعالیٰ نے إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ (137) حضرت مثیل محمد ، موعود اقوام عالم، نبی آخر الزمان ﷺ کے قرب میں اور حضور کے گھر میں قیام اور آپ کی ذریت طیبہ کو تعلیم دینے اور اس وجہ سے خاص دعائیں لینے کا موقع ملنا بہت بڑی برکات اور شرف وعزت کا باعث تھا۔آپ کی اہلیہ محترمہ بیان کرتی تھیں کہ میں نے اور ماسٹر صاحب (میرے خاوند ) نے ایام طاعون میں کئی ماہ حضرت ام المومنین اعلی اللہ در جانتہا کے قدموں میں گزارے۔ان ایام میں حضور کے گھر کے گرد نالیوں میں صفائی کی خاطر فینائل بہت استعمال ہوتی تھی۔مجھے گھر میں صفائی کرنے اور روٹیاں پکانے کی سعادت حاصل ہوئی میں آپ کا کھانا پکایا کرتی تھی اور اسے عظیم الشان کار ثواب سمجھتی تھی۔بے شمار دفعہ مجھے اور ماسٹر صاحب کو حضرت مہدی زماں اور حضرت امیر المومنین کا پس خوردہ کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانے کے مواقع حاصل ہوئے۔حضرت مسیح موعود میری پکائی ہوئی روٹیاں پسند فرماتے اور کھاتے ہوئے ظرافت طبع کے طور پر فرماتے تھے آج خلیفی کی پکائی ہوئی روٹیاں ہیں۔مسیح موعود سونف کا اور ہینگ کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ لوگ ہینگ کی بوکو پسند نہیں کرتے دراصل اس کے اندر کستوری کے خواص ہیں) مفتی فضل الرحمن مرحوم نے بیان کیا: (☆☆) ۱۸۹۷ء میں۔۔۔مجھے ٹائیفائیڈ ہوا اور ایک دن عشاء کے بعد مولوی صاحب (حضرت مولوی نورالدین صاحب۔مؤلف ) مجھے دیکھنے کے لئے تشریف لائے (اور ) مولوی قطب الدین صاحب کو کہا کہ اس کے اس مکتوب کا بلاک خاکسار کی طرف سے رسالہ اصحاب احمد بابت جولائی ۱۹۵۵ء میں طبع ہو چکا ہے یہ مکتوب حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے پاس محفوظ ہے۔اس ساری روایت کا حصہ ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کی طرف سے الفضل ۱۹ جولائی ۱۹۵۲ء میں شائع ہوا ہے بقیہ انہوں نے مجھے تحریر کر کے ارسال کیا ہے ہر دوکو خاکسار نے یہاں مخلوط کر دیا ہے۔