اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 123 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 123

123 ماسٹر صاحب بیان کرتے ہیں : ان ایام میں حضرت میر محمد اسحاق صاحب کو بھی جو ابھی بچے تھے طاعون کی گلٹیاں نکل آئیں۔اس پر حضرت اقدس کو سخت اضطراب ہوا، حضور نے ان کے لئے دعا کی اور دوائی دی تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوا کہ میر صاحب دوسرے لڑکوں کے ساتھ ادھر اُدھر بھاگتے پھرتے ہیں اور کھیل رہے ہیں“ از مؤلف - حضرت مسیح موعود" تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے کئی دفعہ ایسی منذ ر خوا ہیں دیکھیں۔کہ میر ناصر نواب صاحب جو میرے خسر ہیں ان کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے۔وہ اتفا قامع اپنے بیٹے اسحاق اور گھر کے لوگوں کے لاہور جانے کو تھے۔میں نے ان کو۔لاہور جانے سے روک دیا۔دوسرے دن میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہوگئی اور دونوں طرف بنِ ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہوگیا کہ طاعون ہے کیونکہ اس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ پڑی ہے یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مرگیا تو ہماری تکذیب میں ایک شور قیامت برپا ہو جائے گا۔غرض اس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔میں فی الفور دعا میں مشغول ہو گیا اور بعد دعا کے عجیب نظارہ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحق کا تپ اُتر گیا اور گلٹیوں کا نام ونشان نہ رہا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ پھرنا۔چلنا۔کھیلنا۔دوڑنا شروع کر دیا گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی یہی ہے احیائے موتی۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسی کے (131) احیائے موتی میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا“۔(1) اسی طرح حضرت مسیح موعود د فرماتے ہیں کہ: (۱۴مئی ۱۹۰۵ ء ) ” میاں محمد اسحق حضرت میر ناصر نواب صاحب کا چھوٹا صاحبزادہ بیمار تھا ڈاکٹر صاحب کی رائے میں حالت اچھی نہ تھی۔فرمایا میں نے دعا کی اور دعا کی اصل وجہ تو شماتت اعدا تھی ، دور نہ اولا د ہویا کوئی اور عزیز موت فوت تو ساتھ ہی ہے۔غرض جب میں دعا کر رہا تھا تو یہ الہام ہوا: (1) سَلَامٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ (۲) پر خدا کا رحم ہے، کوئی بھی اس سے ڈر نہیں ) (132) ۲۴ مئی کو بیان کیا کہ کئی روز ہوئے جب اسحق بیمار تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت