اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 107 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 107

107 خواب دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ منافق طبع ہے۔وہ قادیان آیا۔اس کی بڑی خاطر تواضع کی گئی (اس نے حکومت ترکیہ کے لئے دعا کی درخواست کی تو ) حضور نے پند و نصائح میں فرمایا کہ ترکی کی حالت مخدوش ہے۔اس کے عمال کی ایمانی اور دینی حالت اچھی نہیں ہے۔ان حالات میں ترکی حکومت کا انجام بخیر نہیں ہے ( ان باتوں کو سفیر نے برا منایا اور قادیان سے واپس جا کر حضور کے خلاف باتیں کیں ) سفیر مذکور واپس قسطنطنیہ گیا۔تو ہندوستان سے وصول کرده چنده نین کرنے کے باعث سزا یاب ہوا۔☆ (۱۲) کرم الدین سکنہ بھین کے مقدمہ میں حضور کو جہلم جانا پڑ اور ہزارہ لوگوں نے بیعت کی اور سٹیشن پر اس قدر جم غفیر تھا کہ پولیس کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا ایک انگریز سٹیشن ماسٹر نے حضرت اقدس سے درخواست کر کے الگ تبادلہ خیالات کرنا چاہا اور اپنے دعاوی کے متعلق سوال کیا۔حضور نے فرمایا کہ پہلے مسیح کو تو بعض لوگوں نے ملعون اور دوزخی قرار دیا اور بعض افراد نے ناکام قرار دیا یعنی یہود اور نصاری نے۔لیکن میں وہ مسیح ہوں کہ کامیاب ہو کر دنیا سے جاؤں گا جس سے تمام دنیا کی اقوام فائدہ اٹھا ئیں گی۔پہلے مسیح کو تو لوگوں نے دکھ دئے اور پھانسی تک چڑھانے کی سعی کی اور بعض نے اسے اپنے زعم میں مصلوب بنا کر ملعون قرار دیا۔مگر میں کامیاب اور مظفر و منصور ہوکر دنیا سے جاؤں گا۔(۱۳) یہ روایت میں نے حضرت علامہ جناب حافظ روشن علی صاحب مرحوم و مغفور سے سنی تھی ( آپ نے بیان کیا کہ میں اور چند اور اصحاب حضور کی خدمت میں موجود تھے کہ ) حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ایسی حالت میں تم سے گزر جاؤں گا جب کہ جماعت کی حالت ایسی ہوگی جیسی کہ ایک ماں جو سات دن کا بچہ چھوڑ کر فوت ہو جاتی ہے۔جیسی حالت اس کمزور اور ناتواں بچے کی ہوتی ہے ایسی حالت میری وفات کے وقت میری جماعت کی ہوگی۔مگر خدا تعالیٰ خود اس جماعت کی پرورش کرے گا اور اس کو ترقی دے گا۔یہ جماعت بڑھے گی اور پھیلے گی۔اللہ تعالیٰ خود اس کا محافظ ہوگا۔کیونکہ یہ اس کی جماعت اور اس کا سلسلہ ہے (اس پر ہم سب لوگ آبدیدہ ہو گئے )۔** (۱۴) ایک دیوانہ کتے نے مدرسہ احمدیہ کے ایک طالب عبدالکریم ( حیدر آبادی ) کو کاٹا اور اسے کسولی میں بھیج کر علاج کرایا گیا مگر واپس آکر دو تین ماہ کے اندر پھر اسے دیوانگی کا اثر محسوس ہوا اور وہ پانی سے ڈرتا تھا۔۱۸۹۷ء میں سفیر مذکور قادیان آیا تھا۔اشتہار حضرت اقدس ۷ جون ۱۸۹۷ء ۱۸ نومبر ۱۸۹۹ء نیز ذکر حبیب ص ۴۸ تا ۵۰ الحکم را گست ۱۹۳۸ ء۔اس روایت میں خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار مولف نے ماسٹر صاحب کی قلمی روایات سے زائد میں تفصیل موجود ہے۔کئے ہیں۔