اصحاب احمد (جلد 7) — Page 96
96 اچھی طرح یاد کر لیں، ان میں سے امتحان ہوگا چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا۔چھبیسواں سبق انسپکٹر صاحب نے سنا اور تیسویں سے املاء لکھوانے کو حضرت ماسٹر صاحب کو کہا۔چنانچہ انسپکٹر صاحب نتیجہ سے خوش ہوئے اور آپ کے متعلق اچھے ریمارکس دئے گئے۔۱۹۴۸ء میں آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے لڑکی تولد ہوئی “چنانچہ تیرہ دن بعد ۸ مئی کو آپ کی بیٹی ڈاکٹر محمودہ صاحبہ کے بچی پیدا ہوئی۔اس کی ولادت کے چند دن بعد آپ نے تحریر فرمایا کہ ” آج رات کو کوئی خوش خبری دیتا ہے۔میں اسے کہتا ہوں فَبِمَ تُبَشِّرُونَ ؟ یعنی کسی چیز کی خوشخبری دیتے ہو؟ ایک خوشخبری تو مئی کو پوری ہو چکی ہے اب اس کے بعد دوسری خوشخبری کس کے متعلق ہے۔سردار بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں ۲۵ مئی کو لطیف احمد پیدا ہوا۔یہ ایک لڑکی کے بعد میرا پہلڑ کا ہے۔اس سے پہلے میرے ہاں اولا د زندہ نہ رہتی تھی۔میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب زادہ مجدہ سے اس الہام کا ذکر کیا تو فرمایا کہ اس سے مراد نا مساعد حالات میں لڑکا پیدا ہونا ہے اور یہ امر ہے بھی درست کیونکہ میری شادی کے بعد تیرہ سال میں ایک لڑکی اور چارلڑ کے پیدا ہو کر وفات پاچکے تھے۔اور قرآن مجید میں فَبِمَ تُبَشِّرُونَ کے بعد انا نُبَشِّرُكَ بغلام آتا ہے۔سید حبیب اللہ شاہ صاحب و سید محمود اللہ شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کو سنایا کہ آپ کی ولادت کے متعلق حضرت ماسٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہاما اطلاع دی تھی جس پر ماسٹر صاحب نے کلاس میں یہ خوشخبری سنادی تھی اور نذیر احمد نام والی خواب (جس کا دوسری جگہ ذکر کیا گیا ہے) کی بھی بہت تشہیر ہوئی تھی۔اس طرح کہ ایک دفعہ جب لڑکوں کو سبق نہ یاد کرنے کے باعث ماسٹر صاحب نے سزادی تو نذیر احمد نامی لڑکے کو سزا نہ دی۔لڑکوں کے دریافت کرنے پر یہ خواب سنائی کہ اس وجہ سے میں نے اسے سزا نہیں دی کہ نذیر احمد نام الہام میں آگیا ہے۔اسی طرح ایک دفعہ ایک لفافہ میں آپ نے چند باتیں لکھ کر بند کر دیں اور اعلان کیا کہ چالیس روز کے بعد یہ لفافہ کھولا جائے تو یہ سب باتیں پوری ہوں گی ان میں سے ایک بات ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کی ولادت کی بھی تھی جو پوری ہوئی۔ماسٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب ( بنیر ۂ حضرت مسیح موعود ) نے جب دسویں کا امتحان دینا تھا تو میں ان کو گھر پر پڑھایا کرتا تھا۔میں ان کے ساتھ بٹالہ گیا جہاں انہوں نے امتحان دینا تھا اوران اور ان کے امتحان کے لئے جانے سے قبل میں دو نفل پڑھتا تھا۔ایک روز میں نے سلام پھیرتے ہی جلدی سے انہیں کہا کہ فلاں سوال نہیں آتا تو جلدی سے کر لو۔یہ امتحان میں آئے گا۔چنانچہ وہ سوال امتحان میں آگیا ان کے امتحان میں کامیاب ہونے پر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے ایک تھالی مٹھائی اور میں روپے بھجوائے۔