اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 80 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 80

88 80 دیہات سے آکر میلا کرتے ہیں، جو دسمبر کے بعد ہوتا ہے۔اس دفعہ جناب مسٹر ڈگلس صاحب بہادر بالقابہ بذات خود سکول میں رونق افروز ہوئے۔احمدی پبلک جناب صاحب موصوف کے نام نامی اور اسم گرامی سے بہت عرصہ سے واقف ہے۔کیونکہ یہ وہی صاحب ہیں۔جنھوں نے حضرت مسیح موعود کے اس مقدمہ کا فیصلہ کیا تھا۔جو ایک عیسائی مارٹن کلارک کی طرف سے نہایت سنگین دائر ہوا تھا۔“ ماسٹر عبدالرحمن صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ عالی جناب کپتان ڈگلس صاحب جواب پورٹ بلئیر میں چیف کمشنر ہیں مجھے ملے اور اس بات کو معلوم کر کے کہ میں قادیان سے آیا ہوں۔فرمانے لگے کہ ہم نے تمہارا ایک مقدمہ کیا تھا۔ماسٹر صاحب نے جواب میں عرض کیا کہ ہاں حضور مجھے یاد ہے ، اس وقت میں وہیں تھا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ اس مقدمہ کی جوں جوں تحقیقات کرائی جاتی تھی مرزا صاحب کے خلاف واقعات معلوم ہوتے جاتے تھے۔تاہم میرا دل اس بات کے ماننے کے لئے تیار نہ ہوتا تھا کہ مرزا صاحب ایسے جرم کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔نیز ان کا چہرہ دیکھ کر مجھے اور بھی پختہ خیال ہوتا تھا کہ یہ اس کے ارتکاب کرنے والے نہیں ہیں۔“ ’ماسٹر صاحب نے عرض کی کہ حضور مقدمہ واقعی پیچیدہ اور سنگین تھا۔مگر اس میں شک نہیں کہ آپ نے اپنی خدا دا قابلیت اور اعلی فراست سے وہ کام کیا جس کی وجہ سے آپ ایک تاریخی انسان بن گئے ہیں اور آپ نے عدل و انصاف کے باب میں وہ امتیاز حاصل کیا ہے کہ آئندہ نسلیں آپ کا نام نہایت عزت سے لیں گی۔ماسٹر صاحب لکھتے ہیں کہ میں جوں جوں اس مقدمہ کا ذکر کرتا۔آپ کا چہرہ نہایت خوش ہوتا جاتا تھا اور ایسا ہی ہونا بھی چاہیے تھا کیوں کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی نظیر بہت کم مل سکتی ہے۔ماسٹر صاحب نے چار انگریز صاحبان کو بھی تبلیغ کی جس کا ان پر اچھا اثر ہوا۔ان سے اثناء گفتگو میں یہ سوال کیا گیا کہ یسوع مسیح خدا ( کا ) بیٹا کس طرح ہو سکتا ہے۔ماسٹر صاحب نے ایک مفصل تقریر کے ذریعہ انہیں سمجھایا کہ اگر مسیح خدا کا بیٹا تھا تو چاہیے تھا کہ جس طرح دنیا میں ہر ایک کے اختیار میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اپنے بیٹے کی تربیت اور قابلیت کے لئے صرف کر دیتا ہے اسی طرح خدا جو ہر ایک قسم کی مقدرت رکھتا ہے۔یسوع مسیح میں کچھ طاقتیں رکھ دیتا جن کی وجہ سے دیگر انسانوں اور ان میں فرق ہو جاتا۔لیکن یسوع مسیح کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی دوسرے انسانوں ایسے ہی قومی رکھتے ہیں۔اس پر ایک صاحب بولے کہ یسوع مسیح ہمارے شفیع ہیں اور خدا کے پاس ہیں اور ہم ایمان اور محض ایمان کی وجہ سے انہیں خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔گو ہماری عقل کو وہاں تک رسائی نہ ہو۔اس کے متعلق انہیں بتایا گیا کہ یوں ایمان تو بہت سے لوگ اور انسانوں کے خدا ہونے پر بھی رکھتے ہیں حتی کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو بے جان چیزوں مثلاً پتھروں کو خدا قرار دیتے ہیں لیکن کیا ان کا ایمان آپ کے اور ہمارے نزدیک کسی کام کا ہے ہرگز نہیں کیونکہ ایمان کے لئے دلائل اور عقلی ثبوت کی