اصحاب احمد (جلد 7) — Page 72
72 نماز، روزہ اور اخلاق حسنہ کی تاکید کرتے ہوئے سلسلہ حلقہ کی بھی تبلیغ کرتے ہیں بہت سے ناواقف اورست پڑے ہوئے لوگوں کو بیدار کر کے انہوں نے جماعت احمدیہ میں داخل کرا دیا ہے ( آٹھ افراد کے اسماء درج کئے جاتے ہیں جو اس نیک کام میں ماسٹر صاحب کی مدد کرتے ہیں ) (69) پھر مرقوم ہے۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ تقریباً ہر شب رات کو کوٹھوں پر قرآن مجید سناتے ہیں۔تبلیغ کے لئے بہت عمدہ طریق ہے۔باہر ارد گرد کے دیہات میں بھی جاتے ہیں (70) اخویم مولوی محمد ابراہیم صاحب خلیل سابق مجاہد ائلی و افریقہ حال ربوہ تحریر کرتے ہیں کہ میں نے پانچ سال تک قادیان میں تعلیم پائی اور بعد ازاں مدرسہ تعلیم الاسلام میں مجھے بطور مدرس کام کرنے کا موقع ملا۔میں ۱۹۱۴ ء سے ہی حضرت ماسٹر صاحب سے پوری طرح واقف ہوں۔میں اور ایک عبد اللہ غیر احمدی طالب علم (جو بعد میں مخلص احمدی ہو گئے ) احمد آباد میں رہتے تھے ماسٹر صاحب عبداللہ کو تبلیغ کرنے آتے وہ بہت مخالف تھے۔گھنٹوں بحث ہوتی۔وہ امرتسر سے جا کر مخالفانہ کتب لے آتے۔حضرت ماسٹر صاحب نے عبداللہ موصوف کے بعض اعتراضات کا جواب اپنے ایک رسالہ میں دیا ہے (*)۔آپ کو تبلیغ کا جنون تھا۔جب بھی آپ کے مکان پر جانے کا موقع ملا۔کسی ہندو سکھ یا مسلمان کو تبلیغ کرتے ہی پایا۔گھر پر وقت ضائع نہ ہونے دیتے اشتہارات رسالے وغیرہ لکھتے رہتے۔جلی حرورف میں قلمی اشتہارات لکھ کر بازاروں میں اور مسجدوں میں لگا دیتے۔بالعموم بعد نماز احباب کو وعظ کر کے تبلیغ کرنے کی تحریک کرتے راستہ میں بھی جومل جاتا اسے تبلیغ کرتے یا تبلیغ کرنے پر آمادہ کرتے چونکہ قادیان میں میرے ایک مکان کے کرایہ دارر ہے تھے اس لئے ۱۹۵۰ء میں جب میں نے دوسری شادی کی تور بوہ اکثر میرے گھر پر آ کر قیام کرتے۔بہت محبت سے پیش آتے اور بکثرت نصائح فرماتے۔تبلیغ کے لئے آپ کے دل میں جنون کی حد تک لگن تھی۔طالب علمی میں ٹریننگ کالج لاہور میں قادیان ونواحی میں جزائر انڈیمان اور سیلون میں اور پاکستان میں غرضیکہ جہاں بھی آپ رہے تبلیغ اور اعلائے کلمۃ اللہ کا شدید اور پاک جذ بہ آپ کو چین نہ لینے دیتا آپ احباب کو مختلف طریقوں سے تبلیغ پر آمادہ کرتے تھے۔مثلاً مکرم ماسٹر مامون خاں صاحب ڈرل ماسٹر ہائی اسکول قادیان ( حال مہاجر سندھ ) کی شادی میں بعض موانع تھے۔حضرت ماسٹر صاحب کو انہوں نے دعا کے لئے کہا آپ نے فرمایا کہ آپ چالیس گاؤں میں جا کر تبلیغ کریں۔میں دعا کروں گا۔چنانچہ ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ ماسٹر مامون خاں صاحب کی شادی ہوگئی ایک اور دوست بیمار ہو کر قریب المرگ ہو گئے۔زندگی کی امید باقی نہ رہی، آپ سے دعا کے لئے انہوں نے کہا۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عبدااللہ موصوف کا ذکر مسیح موعود وعلماء زمانہ کے طبع سوم کے ص ۷۳ ۴۰ ے پر آتا ہے۔☆