اصحاب احمد (جلد 7) — Page 45
45 بین الاقوامی صلیب احمر ( ریڈ کر اس ) کے ادارے نے شمالی محاذ پر جہاں جنگ ہورہی تھی بھیج دیا۔اس وقت جہاں حبشہ والے قریباً نہتے تھے۔اطالوی افواج کے پاس ہوائی جہاز بم اور نو ایجاد مشین گنیں ، تو ہیں اور موٹریں تھیں۔مجلس اقوام عالم نے سوائے ادویہ اور صلیب احمر کے اور کچھ بھی مدد نہیں کی۔اطالیہ کے دولاکھ سپاہی کھلے بندوں حملہ آور تھے ،عورتوں ، بچوں، دیہات، ہسپتالوں اور گرجوں پر نہایت سفا کی سے بم باری کی گئی۔زہریلی گیس پھینکی گئی۔اس سے فوجیوں اور غیر فوجیوں کی آنکھیں اور چہرے اور جسم جھلس گئے۔ہمارے صلیب احمر کے ہسپتال پر Ambalaqi میں روزانہ بکثرت بم باری ہوتی جس سے زخمیوں اور عملہ ہسپتال میں اموات واقع ہوئیں۔حبشی جنگی لیڈر Ras Mulu Gelta اور Ra Khasa میرے ساتھ تھے۔مجھے دن رات مشغول رہنا پڑتا اور قریباً انیس ہزار زخمیوں اور بیماروں کے علاج کی توفیق ملی۔۱۹۳۶ء میں اطالیہ نے حبشہ کو شکست دیدی۔شہنشاہ حبشہ جو بہت دلیری سے بنفس نفیس میدان جنگ میں موجود رہتا تھا زخمی بھی ہوا۔اب وہ از سر نو فتح کرنے کا عزم لے کر یورپ میں پناہ گزیں ہوا اور بعد میں پھر فاتح ہوا۔اطالوی فتح حبشہ کے بعد میں نصف سال تک ادیس ابابا میں مقیم رہا تا کہ جن لوگوں نے آغاز اسلام میں مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دی تھی ان کو امن و سلامتی کا پیغام پہنچاؤں۔چنانچہ میں مساجد میں جاتا اور پیغام پہنچاتا۔ایک روز جامع مسجد میں میں نے بزبان عربی ظہور مہدی کے متعلق قرآن مجید اور احادیث کا ذکر کے خوشخبری دی ، لوگ دشمن ہو گئے۔اور مجھے وہاں سے مار کر نکال دیا اس کا اچھا نتیجہ نکلا اور بعض لوگ میرے ساتھ ہو گئے۔ان دنوں از ہر یو نیورسٹی کے ایک فاضل اجل جو مصر کے علماء کبار میں سے تھے ان کا نام شیخ محمد بدیوی تھا اور وہ جامعہ اسلامیہ ادیس ابابا کے پرنسپل تھے اور آج کل بھی مصر میں طنطا وغیرہ مقامات پر کام کرتے ہیں وہ مجھے اپنے گھر لے گئے اور خواہش کی کہ ان کے ہاں روزانہ جا کر تبادلۂ خیالات کروں۔انہوں نے احمدی مبشرین کی بعض تصانیف مطالعہ کی ہوں گی وہ مجھ سے احمدی نقطہ نگاہ کے مطابق تغییر بعض آیات کی معلوم کرتے۔میں کہتا کہ انت یا شیخ عربی و انا اعجمي لا يستويان تو جواب دیتے انتم القاديانيون تفسرون القرآن حسن من تفاسيرنا وہ میری بیان کردہ تفسیر سے خوش ہوتے اور تسلی پاتے۔کتب حضرت مسیح موعود پڑھ کر انہوں نے عبدالحمید ابراہیم مصری احمدی کو جوا بھی احمدی نہ تھے اور پہلے ازھر یو نیورسٹی کے طالب علم رہ چکے تھے اور اب ادیس ابابا میں تاجر تھے یہ کتب دیں تو موخر الذکر نے مطالعہ کر کے کہا کہ ان میں کوئی بات خلاف شرع نہیں۔نہایت اعلیٰ عربی اور معارف قرآن مجید ہیں میری تحریک پر شیخ محمد بدیوی نے استخارہ کیا اور خواب دیکھا کہ حضرت رسول کریم له مع حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے گھر تشریف لائے ہیں اور حضرت مسیح موعود کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ذانا ئبي في الاسلام۔هذا نا ئبي في الاسلام۔چنانچہ ان کے سب شکوک رفع