اصحاب احمد (جلد 7) — Page 26
26 بسرائے ، ہمبو وال، ڈھینڈ سہ، بھینی بانگر ، ناتھ پورہ ، جادہ رام پور بر کلاں ، وڈالہ گرنتھیاں سٹیشن اور منگل باغباناں میں بجلی پہنچ چکی ہے اور بجلی کے کوئیں جاری۔اس سب ڈویژن کے تحت تبڑا اور کاہنووان کے سب آفس ہیں اور ان کے قریب کے دیہات میں بھی بجلی جا چکی ہے۔قادیان میں بجلی سے آٹا پسینے کی ۱۸ مشینیں اور آرے تین کام کرتے ہیں ایک انسپکٹر زراعت اور ایک اسٹنٹ زراعت قادیان میں احمد یہ فروٹ فارم (نزد کالج) کے لئے مقرر ہیں۔یہ فارم تحقیقاتی فارم بنادیا گیا ہے اس سے حکومت کو بہت فائدہ ہے اس دفعہ نصف سال کے لئے ایک ایم ایس سی ( زراعت) کا طالب علم اس فارم کے باعث بھیجا گیا ہے یہاں کے پودے خصوصاً آم دیگر اضلاع میں جاتے ہیں۔کھد ربھنڈار اور باٹا کی اعلی دکانیں جاری ہیں۔کچھ عرصہ رنگائی کا کام اور عورتوں کو کٹائی کا کام سکھلانے کے عارضی مرا کز کھولے گئے۔اب بھی چمڑے کے کام کی سکھلائی ہوتی ہے۔ان کوائف سے ظاہر ہے کہ منشائے الہی سے یہ مقدر ہے کہ قادیان کی مقدس بستی آباد رہے اور اس کی آبادی کے لئے اللہ تعالیٰ خود ہی سامان پیدا کر رہا ہے ورنہ ایسا قصبہ جو ذ رائع آمد سے یک سرخالی تھا اجاڑ ہو جاتا لیکن اس کے مکینوں کے ہجرت کر جانے اور چلے جانے پر بھی وہ آباد ہے۔سواس کی حفاظت بطور قصبہ اور بطور ظاہری اور مادی مرکز بھی نہایت ایمان افزا اور روح پرور ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔میں نے اس مرکز کے ساتھ ظاہری اور مادی الفاظ اس لئے شامل کئے ہیں کہ اس وقت میں مادی کوائف بیان کر رہا تھا۔ورنہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ اس نے اس مرکز کی روحانی اور معنوی حفاظت ہر رنگ میں فرمائی۔تین سو تیرہ درویشوں کی اکثریت بلا خصوصی تحریک کے قادیان میں ٹھہری رہی۔صرف چند ایک کو ٹھہر جانے کا انفرادی حکم ملا تھا بلکہ بعض کو ٹھہرنے کی اجازت نہ ملی تھی لیکن انہوں نے بار بار منت کر کے اجازت حاصل کی۔حالانکہ ظاہراً کسی کے زندہ رہنے تک کا امکان نہیں تھا۔سب کے اقارب پاکستان جاچکے تھے، قادیان میں ٹھہرنے میں کسی دنیوی فائدہ کا ذرہ بھر بھی دخل نہ تھا۔قریب سب اپنے گھروں سے محروم ہو چکے تھے۔الغرض با وجود تمام مشکلات کے قادیان ایک روحانی مینار کا کام کر رہا ہے تقسیم ملک کے بعد کے کام کا خلاصہ یہ ہے: (۱) کئی درجن مبلغ تیار ہوئے جو بھارت کے گوشے گوشے میں اعلائے کلمتہ اللہ کا کام کر رہے ہیں تبلیغی دورے کرتے ہیں۔علامہ نیاز توری جیسی بلند پایہ شخصیت علی الاعلان احمدیت کی صداقت کی قائل ہوگئی ہے۔جماعت احمد یہ بھارت کی شاخیں جو قریب ڈیڑھ صد ہیں کم و پیش ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ مرکز میں بھجواتی ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت قادیان میں ہر قسم کے افراد ہیں۔پانچ گریجویٹ نو فاضل اور