اصحاب احمد (جلد 7) — Page 17
17 بعد ایک عیسائی استاد نے جو بنگالی تھا کل اس میں اسلام پر اعتراض کئے۔آپ کے شافی اور مسکت جواب سے استاد شرمندہ ہوا، اس نے ایک غیر مسلم ایگزیکٹو انجینئر محکمہ انہار سے ذکر کیا کہ عبدالرحمن بہت ذہین ہے، اس کی مدد کرو۔چنانچہ مؤخر الذکر نے آپ سے ملاقات کی۔آپس میں تبادلہ خیالات ہوا۔اس نے تین چار روپے ماہوار کی مدد کرنا شروع کی اور میٹرک کے داخلے کی رقم بھی عطا کی۔چنانچہ آپ نے ۱۸۹۶ء میں حضرت میر محمد اسمعیل صاحب ( ابن حضرت نانا جان ) کے ساتھ میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔آپ کی طبیعت میں کلمہ حق کہنے سے کبھی حجاب یا خوف نہیں ہوا۔چنانچہ لالہ ساگر چند جو پنجاب یونیورسٹی کے پہلے گریجویٹ تھے بطور انسپکٹر بھیرہ مدرسہ کا معائنہ کرنے آئے۔طلبہ ورزش کے لئے جمع تھے کہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب نے ایک مضمون پڑھ کر سنایا جس میں حاضرین کو امور آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور بیان کیا تھا کہ دنیوی امتحانات کے واسطے تو ہم تیاری کرتے ہیں لیکن اُخروی امتحان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔لوگوں نے آپ سے کہا کہ ایسی جرات دکھائی۔وظیفہ لگوا لیتے۔آپ طالب علمی میں بازاروں میں تبلیغ کرتے تھے اساتذہ کے سوالات کے بھی جواب دیتے تھے۔چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں : یہ عاجز بھیرہ ضلع شاہ پور میں تعلیم پاتا تھا اور ہمارے استاد ایک عیسائی صاحب تھے وہ اکثر لڑکوں کو کسی نہ کسی پیرایہ میں مذہبی تعلیم بھی دیتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے لڑکوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ مسلمان ہمیشہ تادم مرگ خدا سے یہی دعا مانگتے رہتے ہیں کہ یا الہی سلامتی ایمان اور خاتمہ بالخیر ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ انہیں کامل ایمان نصیب نہیں ہوتا۔اور اسی وجہ سے خاتمہ بالخیر کے بارے میں انہیں دھڑکا لگا رہتا ہے۔مگر ہم لوگوں کو ایسے خطرات بالکل نہیں ہوتے کیونکہ ہم تو کفارہ مسیح پر ایمان لے آتے ہیں۔اس لئے کوئی خدشہ اور خوف درباره خاتمہ بالخیر ہمارے دل میں نہیں رہتا۔اس اعتراض کے جواب میں سب لڑکے لاجواب ہو گئے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم ہی اس کا جواب دو کیوں کہ حضرت مرزا صاحب کے مریدوں سے شیطان بھاگتا ہے۔آخر کار خدا کے محض فضل سے میرے دل میں یہ جواب آیا کہ صاحب! کیا آپ کو اپنے ایمان کے کامل ہونے کا یقین ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاں۔میں نے کہا کہ انجیل مصنفہ لوقا میں لکھا ہے کہ مسیح اپنے شاگردوں کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اگر تم میں ایک رتی کے برابر بھی ایمان ہو تو تم اگر اس توت کے درخت کو حکم دو کہ دریا میں چلا جاوے تو وہ تمہاری مانے گا اور انجیل مؤلفہ متی میں لکھا ہے کہ اگر تم میں رتی کے برابر ایمان ہوگا تو تمہارے اشارہ سے پہاڑ حرکت کریں گے اور زہر کے پیالے تم پی لوتو ز ہر تمہیں اثر نہ کرے گی اور اگر سانپ تمہیں ڈسیں تو تمہیں کوئی گزند نہ پہنچے گا۔پس جس صورت میں ایک ادنی عیسائی کے ایماندار ہونے کی یہ علامتیں ہیں۔پھر آپ جیسے کامل ایماندار تو ضرور اس