اصحاب احمد (جلد 7) — Page 201
201 گڑھ شنکر کے ان بزرگوں کو جو غالباً ۹۷-۱۸۹۶ء سے احمدی تھے تعلق باللہ اور حضرت رسول کریم اللہ کے ساتھ عشق اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بے حد محبت نے بھی خاکسار کو بیعت کرنے پر مجبور کیا کہ جس شخص کے پیرو اسلام کے ایسے شیدائی اور تقومی شعار ہیں وہ خود کس پا یہ کا ہوگیا یقینا وہ اللہ تعالیٰ کا ایک برگزیدہ اور رسول ہے۔اور اخبار الحکم کے ملفوظات پڑھ کر تو میں بے اختیار ہو گیا کہ مجھے فوراً بیعت کر لینی چاہیے۔کیونکہ زندگی کا کیا اعتبار ہے اس وقت تک میرے خاندان میں سے کوئی احمدی نہ ہوا تھا۔والد صاحب نے خلافت ثانیہ میں بیعت کی میرے ماموں چوہدری عالم گیر خاں صاحب مرحوم نے ۱۹۳۸ء میں بیعت کی اور ۱۹۴۱ء میں وفات پائی۔البتہ میرے ایک ماموں چوہدری بشارت علی خاں صاحب کی (جو کہ بقید حیات ہیں ) بیعت ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ء کی ہے۔میں نے اس زمانہ میں ان لوگوں کا نیک نمونہ دیکھا اور اخبار الحکم پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ مجھے جس پیشوا کی ضرورت ہے اور جس کے لئے میں طالب علمی کے زمانہ میں دل میں دعا کرتا تھا وہ یہی شخص ہے جس کی مجھے بیعت کرنا چاہیے۔چنانچہ ۱۹۰۲ء میں ایک دن میں نے حضرت ڈاکٹر صاحب مرحوم سے عرض کیا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں آپ میری بیعت کا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ دیں۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ تمہاری راجپوتوں کی قوم بہت سخت ہے شاید وہ تمہیں روکیں اور تکالیف دے کر چاہیں کہ تم بیعت چھوڑ دو۔میں نے اسی وقت کہا کہ مجھے اپنی قوم کی پرواہ نہیں اور نہ میں ان کی تکلیف دہی سے ڈرتا ہوں۔اگر وہ اس راہ میں مجھے جان سے بھی ماردیں تو میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم نے میری بیعت کا خط لکھ دیا اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستخط سے بیعت کی منظوری کی اطلاع ملی۔خط ملنے پر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔زیارت حضرت مسیح موعود بیعت کی منظوری آنے کے ایک مہینے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب سے عرض کیا کہ میں قادیان جا کر دستی بیعت بھی کرنا چاہتا ہوں مگر میں کبھی گڑھ شنکر سے باہر نہیں گیا۔نہ ریل کبھی دیکھی۔مجھے قادیان کا راستہ بتا دیں۔آپ نے کہا یہاں سے بنگہ پہنچو۔وہاں میاں رحمت اللہ صاحب مرحوم " باغانوالہ کی دکان پر جا کر ان سے کہنا کہ پھگواڑہ ریلوے سٹیشن تک کا بکہ کرا دیں اور ریل میں سوار ہو کر امرتسر گاڑی بدل کر بٹالہ دس بجے رات پہنچ (۱) میاں رحمت اللہ صاحب ایک مخلص صحابی تھے۔وفات پا کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔