اصحاب احمد (جلد 7) — Page 192
192 کسی کام یا چیز کی ضرورت ہوگی خود کہہ دیں گے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں تو یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس چلتے پھرتے ہی چلے جائیں اور کسی کے محتاج نہ ہوں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو بھی قبول فرمایا۔جمعرات کے روز حسب معمول ڈائری کو مکمل کیا۔جمعہ کے دن عام کاموں کو معمول کے مطابق سرانجام دیا۔صرف اس قدر معلوم ہوا کہ عصر کے قریب کچھ گھبراہٹ کا اظہار کیا کہ دل بے چین ہے اس لئے عشاء کی نماز گھر پر ہی ادا کی۔نماز کے بعد چار پائی پر لیٹ گئے جب تہجد کے وقت آپ کی اہلیہ محترمہ تہجد کے لئے اٹھیں تو آپ کو اس خیال سے نہ جگایا کہ رات کو طبیعت خراب تھی لیکن جب وہ تہجد سے فارغ ہوئیں تو پھر صبح کی نماز بھی پڑھ لی اور آپ بالکل سکون کی حالت میں چادر اوڑھے لیٹے رہے تو انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر بلایا تا کہ اٹھائیں تو یہ معلوم کر کے گھبرا گئیں کہ وہ ملتے ہی نہیں اور روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہوئی ہے۔تو گھبرا کر مولوی عبدالرحمن صاحب انور کو بھجوایا جو ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب کو لے کر گئے لیکن جا کر معلوم ہوا کہ رات کے کسی حصہ میں اس زندگی کا سفر ختم ہو چکا ہے۔وفات سے چند دن پہلے جب حضرت سیدہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ہوئی تو اس صدمے کو آپ نے بہت محسوس کیا اور قادیان جلد از جلد پہنچنے میں دیر کا احساس پیدا ہوا کہ اب واپسی جلدی نظر نہیں آتی۔چنانچہ اپنی ڈائری میں بھی اس امر کا ذکر کیا ہے کہ شدت غم سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی سے جب اس دن مصافحہ کیا تو کوئی بات نہ کر سکے۔حضرت اماں جان کی وفات کے بعد بزرگان سلسلہ کے مابین یہ تجویز بھی سنی گئی تھی کہ جن صحابہ کی بیعت ۱۹۰۴ء سے پہلے کی ہے ان کی خصوصیت کے پیش نظر حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گردان کو فن کیا جائے لیکن ابھی عمل اس کے مطابق شروع نہ ہوا تھا۔مولوی عبد الرحمن صاحب انور نے حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی خدمت میں یہ درخواست پیش کی کہ چونکہ مکرم والد صاحب کی بیعت ۱۹۰۱ء کی ہے اس لئے اگر اس تجویز پر عمل کیا جانا ہے تو قطعات کی نشان دہی کر کے اگر مکرم والد صاحب کو بھی حضرت اماں جان کے گرد دفن ہونے کا موقع مل سکے تو زہے خوش نصیبی چنانچہ حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو قطعات کے نشان لگوانے کے لئے ارشاد فرمایا۔سوفوراہی حضرت اماں جان کے مزار کے قریب قطعات کی تعیین ہوگئی اور سب سے پہلے آپ کو حضرت اماں جان کے گرددفن ہونے کا موقع ملا۔فالحمد للہ علی ذالک دوسرا اتفاق یہ ہوا کہ آپ کی اہلیہ محترمہ کی وفات پونے دو سال بعد ہوئی یعنی ۲۹ دسمبر ۵۳ ، کولیکن آپ کی قبر کے بالکل جانب جنوب از خود ہی قبر کی جگہ خالی تھی۔جہاں ان کو دفن ہونے کا موقع ملا اس طرح اللہ تعالیٰ نے دونوں کی قبروں کو بھی ساتھ ساتھ رکھنے کا سامان کر دیا۔