اصحاب احمد (جلد 7) — Page 187
187 جس کا کچھ تھوڑا سا حصہ گلاس کے نیچے بچا رہا جو حضور نے اسی طرح اپنے پاس رکھ دیا۔جس کو میری لڑکی نے جھٹ اٹھا کر منہ سے لگالیا اور پی گئی۔یہ حقیقی تبرک تھا جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری لڑکی کو از خود میسر آ گیا اور جسے اس نے بلا تکلف خود ہی حاصل کر لیا۔سوخدا کے فضل سے اس تبرک کے طفیل میں اس میں رشد اور ہدایت اور تقویٰ اور طہارت کے آثار نمایاں طور پر موجود پاتا ہوں۔“ (۹) خاکسار نے بچشم خود دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جب رسالہ ضرورۃ الامام ڈیڑھ دن میں لکھ کر اور طبع کرا کے شائع فرمایا تو اس کے پہلے صفحہ (ٹائیٹل پیج ) پر اپنے قلم سے قلمی دستخط ” مرزا غلام احمد عفی عنہ کے کئے ہوئے تھے اور ایک مہر ہلالی شکل کی بھی لگوائی تھی جس میں الیس الله بکاف عبدہ حسب ذیل شکل میں لکھا ہوا تھا۔چنانچہ ایسا ایک نسخہ خاکسار کو بھی قاضی ضیاء الدین صاحب کی معرفت ملا تھا۔“ (۱۰) حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے اور دیگر کئی ایک احمدی احباب کو بمقام سرگودھا ایک واقعہ سنایا تھا جو میں اپنی یادداشت کی بناء پر حوالہ قلم کرتا ہوں ایک دفعہ ایک ملنگ فقیر جس نے نیلے رنگ کا تہ بند باندھا ہوا تھا ہمارے سامنے قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کرنے کا خواہشمند ہوا حضور کا یہ عام معمول تھا کہ اس قسم کی درخواست کو فوری منظور نہ فرماتے بلکہ کچھ نہ کچھ تامل اور توقف فرماتے۔لیکن اس کی درخواست پر حضور حجھٹ بیٹھ گئے اور اسی وقت اس کی بیعت لے لی۔اس کے بعد اس نے کہا کہ حضور میں نے اب واپس جاتا ہے۔اس بات کو بھی حضور نے اپنی عادت کے خلاف جھٹ منظور فرما لیا اور اجازت دے دی بلکہ خود ہی اس سے پوچھا کہ آپ کو کرایہ وغیرہ کے لئے خرچ کی ضرورت ہوگی۔اس نے کہا ہاں ضرورت ہے جس پر حضور نے اپنے پاس سے کچھ نقدی اس کے حوالے کر دی اور الوداعی مصافحہ فرما کر اس کو رخصت کر دیا۔اس پر حاضرین کو بہت تعجب ہوا کہ یہ کیسا آدمی ہے جو آتے ہی بیعت کر کے بغیر کچھ عرصہ قیام کرنے کے رخصت ہو گیا ہے چنانچہ اس پر حاضرین سے طرح طرح کے سوالات ہونے شروع ہو گئے۔اور خاص کر مرزا خدا بخش صاحب نے تو اصرار کے ساتھ کہا کہ میاں اگر تم نے یہاں ٹھہر نا نہ تھا تو پھر تم آئے کس غرض کے لئے ہو۔اس نے نہایت سادگی سے پوچھا کہ بیعت تو کر لی ہے اب کس غرض کے لئے اور ٹھہروں۔مرزا خدا بخش (صاحب) نے کہا کہ حضور کی صحبت اختیار کر کے روحانی فیض حاصل کرو، اس نے پوچھا کہ وہ روحانی فیض کیا ہوتا ہے جس کے