اصحاب احمد (جلد 7) — Page 183
183 اور مطمئن نظر آتے تھے۔عام زندگی آپ کی کوئی ایسی آسودہ حال والی تو نہ تھی مگر بڑے ہی سکون والی تھی آپ اکثر اپنی والدہ محترمہ کا ذکر فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری والدہ اکثر یہ دعا کیا کرتیں کہ خدایا کسی چیز کی ” تھوڑ (کمی) نہ دکھانا۔چنانچہ فرماتے کہ ہمارے ساتھ خدا تعالیٰ کا سلوک کچھ ایسا ہی رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ ہماری ہرضرورت کو پورا کیا اور اچھے رنگ میں پورا کیا اور اس طرح ہمیں کبھی بھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔نیز فرمایا کرتے کہ ہمیں اس امر کی بھی خوشی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حق حلال کی کمائی سے ہمیں حصہ دیا ہے اور اسی میں خدا تعالیٰ ہمیشہ برکت دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی آپ کے ساتھ نرالا ہی تھا اور اس کے انعامات آپ پر اور آپ کے خاندان پر بے شمار ہیں۔آپ کا وجود ایسا تھا جیسے آپ خاندان کا ستون ہیں جس کے گرد جملہ افراد خاندان متحد ہوئے بیٹھے تھے۔نئے اور پرانے تعلقات کا آپ ایک سنکھم تھے۔اب آپ کے وجود کی حقیقی قدر اور برکت زیادہ واضح ہو کر سامنے آنے لگ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو غریق رحمت فرمائے اور نیکی کے اس بیج کو ترقی دے جو آپ کے ذریعہ سے بویا گیا۔آپ نے اپنے اقربا کو آرام پہنچانے میں کبھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اب اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کی نیک خواہشات اور نیک ارادوں کو پورا کرنے والے ہوں۔احمدیت کی عزیز ترین نعمت ہمیں آپ ہی کے طفیل میسر آئی۔خدا ہمیں توفیق دے کہ ہم اس جھنڈے کو مضبوطی کے ساتھ بلند کئے رکھیں جسے وہ زندگی بھر ہر قیمت پر بلند کئے رہے۔احمد بیت ان کا ایمان اور ان کی جان تھی۔خدا کرے اس پر ہمارا بھی خاتمہ بالخیر ہوآمین یارب العالمین۔آپ تحریر فرماتے ہیں: روایات (۱) خاکسار جب قادیان آیا تو میرے ایام قیام میں ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام گھر سے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔حضور کے گردا گرد حاضرین کا مجمع استادہ تھا۔حضور بھی ان کے درمیان کھڑے تھے اس وقت حضور نے کھڑے کھڑے فرمایا کہ شاید کسی دوست کو یاد ہو ہم نے ایک دفعہ پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمیں دکھلایا گیا ہے کہ اس چھوٹی مسجد (مبارک) سے بڑی مسجد اقصی ) تک مسجد ہی مسجد ہے، اس پر حاضرین میں سے دو تین