اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 153 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 153

153 وہ بے چارے سب کے سب ان پڑھ تھے۔ہاں بعض ان میں سے پکے احمدی تھے اور دوسرے بوجہ قومیت کی حمایت کے ان احمدیوں کے موید تھے۔اور جہاں نت قوم کے لوگوں سے ان کے دنیوی جھگڑے مقدمے ہوتے رہتے تھے وہاں احمدیت کے اختلاف کی وجہ سے وہ دونوں قومیں پارٹی بازی کی صورت میں ایک دوسرے کے مخالف صف آراء ہوا کرتی تھیں۔کشمیری لوگ اگر چہ زمین کے مالک نہ تھے لیکن مزدوری پیشہ اور آسودہ حال تھے اس لئے وہ زمینداروں سے دیتے نہ تھے وہ مولوی صاحب کا بیان سن کر ششدر سے ہو گئے۔گوان کا دل نہ مانتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے ایسا دعویٰ کیا ہو لیکن مولوی صاحب نے چونکہ اس بات کا ذمہ لیا کہ میں یہ دعویٰ ان کی کتاب سے دکھا دوں گا اس لئے ان کو کہنا پڑا کہ اگر ایسا ثابت ہوا تو ہم مرزا صاحب کو چھوڑ دیں گے۔چنانچہ اس امر کا تصفیہ کرنے کے واسطے آئندہ جمعہ کے دن کی تاریخ مقرر ہوئی۔کشمیری احمدی قاضی ضیاء الدین صاحب کے پاس کوٹ قاضی میں گئے تمام ماجرا بیان کیا چونکہ اس وقت تک ایسا اعتراض حضرت مرزا صاحب پر نہیں کیا گیا تھا، اس لئے قاضی صاحب بھی حیران ہوئے کہ یہ دعوئی وہ کہاں سے دکھائے گا۔قاضی صاحب نے تاریخ مناظرہ سے پہلے ہر چند کوشش کی کہ مولوی زین العابدین اپنے بیان کی بنا بتائے۔لیکن اس نے نہ بتانا تھا نہ بتایا اور یہ سانپ اس نے میدان مناظرہ میں ہی نکالنے کے لئے رکھا ہوا تھا۔قاضی صاحب کو چونکہ ایسا کوئی حوالہ یاد نہ آتا تھا اس لئے وہ کوئی تیاری نہ کر سکے۔آخر جمعہ کے دن حضرت صاحب کی جس قدر کتابیں ان کے پاس تھیں لے کر موضع نت میں پہنچ گئے۔اس وقت تک نماز با جماعت کی علیحدگی کا کوئی فیصلہ حضرت صاحب کی طرف سے نہ ہوا تھا اور احمدی غیر احمدیوں کی اقتداء میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے چنانچہ جب نماز پڑھانے کا سوال پیدا ہوا تو مولوی زین العابدین نے پیش امام اور خطیب بنا چاہا لیکن قاضی صاحب نے از راہ غیرت اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کیا، ان دنوں میں خاکسار نے بیعت تو نہیں کی ہوئی تھی لیکن میں سلسلہ احمدیہ کے مصدق اور مؤید تھا اور قاضی صاحب کو یہ حال معلوم تھا۔قاضی صاحب نے تجویز کی کہ اگر محمد عبداللہ کو بوتالہ سے بلا لیا جائے تو ہم اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے اس پر فریق مخالف بھی راضی گیا۔چنانچہ خاص آدمی میری طرف بھیجا گیا لیکن میرے آنے میں دیر ہونے کی وجہ سے بعد میں گاؤں کے امام مسجد ( میاں غلام مصطفیٰ ) پر فریقین کا اتفاق ہو گیا کیوں کہ وہ امام مسجد سارے گاؤں کا مشترکہ تھا۔دوسرے احمدیوں کے خلاف نمایاں طور پر حصہ نہیں لیا کرتا تھا چنا نچہ خاکسار مع گاؤں کے ایک اور آدمی کے موضع نت میں ایسے وقت میں پہنچا جب کہ جمعہ کی نماز پڑھائی جارہی تھی۔نماز جمعہ کے بعد مناظرہ شروع ہوا، اردگرد کے دیہات کے بہت سے لوگ اکٹھے ہوئے ہوئے تھے۔اور یہ مباحثہ اپنی نوعیت کا پہلا مباحثہ تھا کیونکہ اس سے پہلے لوگوں نے کبھی اجتماع کیا ہی نہ تھا۔مولوی زین العابدین نے تقریر شروع کی اور بہت سا وقت