اصحاب احمد (جلد 7) — Page 148
148 مجھے اس کا پورا تجربہ ہے۔احمدیت کا اس خاندان میں آنے کا ذریعہ فرماتے ہیں احمدیت کے ہمارے خاندان میں آنے کا اصل ذریعہ قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم ہوئے ہیں جو کہ بوجہ قریب سکونت رکھنے اور تعلق رشتہ داری اور عالم اور اہل حدیث فرقہ کے باعث میرے والد صاحب کے ساتھ ہم عقیدہ ہونے کے باعث میرے والد صاحب سے اکثر ملتے جلتے تھے، اور باہم خوب محبت رکھتے تھے۔یہاں تک کہ جب قاضی صاحب مرحوم کو نواب صدیق حسن خاں کی تصانیف کا پتہ لگا۔تو انہوں نے بہت سی کتابیں بصیغہ مفت بطور وقف مال کے منگوائیں تو میرے والد صاحب کو بھی اس علمی خزانہ کے تقسیم ہونے سے اطلاع دی جس پر میرے والد صاحب نے بھی کئی ایک کتا بیں نواب صاحب کی شائع کردہ منگوائیں جو کہ ہمارے گھر میں موجود ہیں۔میں اپنے والد صاحب کی زندگی میں اگر چہ خورد سال تھا۔لیکن مجھے مدرسہ کی تعلیم پاتے ہوئے دینی معلومات حاصل کرنے کا بھی بہت شوق تھا۔چنانچہ اس زمانے کے بعض حالات و خیالات جو مجھے معلوم ہوتے رہے اور جن کا سلسلہ احمدیہ کی تاریخ سے دور یا نزدیک کا تعلق ہے ،متفرق طور پر تحریر کئے دیتا ہوں۔(۱) '' ایک دفعہ قاضی ضیاء الدین صاحب کی معرفت میرے والد صاحب کے پاس حضرت مسیح موعود یہ السلام کے ارسال کردہ فارم بمع ایک مطبوعہ مضمون کے اس غرض کے لئے موصول ہوئے کہ لوگوں کو وہ مضمون سنا کر فارموں پر ان کے دستخط کرائے جائیں۔وہ مضمون بطور میموریل کے تھا جو مسلمانوں کی طرف سے ان کے دستخط کرا کے گورنمنٹ میں بھیجا جانا تھا کہ گورنمنٹ ہم مسلمانوں کے لئے جمعہ کے دن مدرسوں اور کچہریوں اور دفتروں میں تعطیل کیا کرے کیونکہ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لئے خاص عبادت کے واسطے ضروری ہے چنانچہ مجھے یاد ہے کہ میرے والد صاحب نے ہمارے گاؤں میں مسجد میں جمعہ کے دن لوگوں کو اکٹھا کر کے حضرت صاحب کا وہ مضمون نہایت ذوق اور شوق سے سنایا اور لوگوں کے العبد تحریر کرائے اور حضرت صاحب کی اس خدمت اسلامی کی نہایت ہی عقیدتمندانہ تعریف کی (3) (۲) میں قلعہ دیدارسنگھ کے مڈل سکول میں تعلیم پایا کرتا تھا جب کہ وہ دن آیا جو کہ آٹھم کی موت یا رجوع بحق ہونے کی پندرہ ماہ کی معیاد کا آخری دن تھا۔جب وہ دن گذر گیا اور آتھم نہ مرا تو قلعہ دیدارسنگھ کے بازاروں اور نظر گاہ عوام میں وہاں کے عیسائیوں نے بڑے طمطراق سے منظوم اشتہار اسی خوشی میں لگائے کہ دیکھو (☆) یہ میموریل سروس وائسرائے کی خدمت میں یکم جنوری ۱۸۹۶ء کو حضرت اقدس نے بھیجا تھا۔(مؤلف)