اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 136 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 136

136 بشاشت اور خوشی سے برداشت کیا (147) گویا فی سبیل اللہ تکالیف برداشت کرنے کو آپ باعث صد برکات یقین کرتے تھے۔اسی فلسفہ کو حضرت مسیح موعود کے ذیل کے الہام میں بیان کیا گیا ہے۔صادق آن باشد که ایام بلا می گذارد با گذارد با محبت با وفا را عاشقی گردد اسیر گر قضا بوسد آں زنجیر را کز آشنا (148) جیل سے ماسٹر صاحب نے ایک خط میں مذکورہ بالا الہامی اشعار لکھ کر تحریر فرمایا کہ ہتھکڑی لگتے وقت میں نے یہ شعر پڑھے تھے اور ہتھکڑی کو بوسہ دیا تھا۔تبركات آپ کے متعلق سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں و تبلیغ کا اتنا جوش ہے کہ بعض کی نظروں میں جنون ہے۔ایسے وجود نہایت ہی مفید ہوتے ہیں (149)۔۔حضرت ماسٹر صاحب کے پاس حضرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل تبرکات تھے جو اس وقت ان کی اولاد کے پاس موجود ہیں۔(۱) حضرت اقدس کا ایک مکتوب ماسٹر صاحب کے نام بابت پہرہ جو دوسری جگہ نقل کیا گیا ہے (۲) کشتی نوح، آریہ دھرم اور عربی اشعار وغیرہ کے اصل مسودات کے قریب سوا در جن صفحات فل سکیپ سائز (۳) کف قمیض اسلام کے لئے انتہائی قربانی حضرت ماسٹر صاحب کی فقید المثال قربانی کا ذکر آپ پڑھ چکے ہیں آپ کا ذیل کا بیان بھی اس تعلق میں قابل مطالعہ ہے۔آپ جب پہلی بار تلاش مذہب کے لئے نکلے تو ایک سال بعد والدین کی ملاقات کے لئے واپس آئے۔اس کا نقشہ آپ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں۔”میرے اصلی گھر میں زور وشور سے رونا پیٹنا جاری تھا جیسے ہندوؤں اور سکھوں میں کسی عزیز کے مرنے