اصحاب احمد (جلد 7) — Page 134
134 ہے۔میرے اہل وعیال کو ابھی میری زندگی کی ضرورت ہے ان کی پرورش اور تعلیم میرے ذمہ ہے تو مجھے صحت عطا فرما۔میں عہد کرتا ہوں کہ میں احمدیت و اسلام کی تبلیغ میں کوئی کوتا ہی نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور میں اس عہد پر حتی المقدور عامل ہوں۔اخویم موصوف کا بیان ہے کہ اپنی طالب علمی کے زمانہ کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ ہر جمعرات کو طلباء کے تبلیغی وفود اساتذہ کرام کی قیادت میں مضافات میں باقاعدگی کے ساتھ جاتے تھے۔اور ان وفود کو بھیجے جانے کا موجب حضرت ماسٹر صاحب تھے جن کا اثر طلباء اور اساتذہ پر بھی تھا۔اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو آپ کے ریٹائر ہونے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا آپ اکثر مواضعات نت موکل۔کھجالہ، بیری اور بھٹیاں کی طرف تشریف لے جاتے۔میرے بھائی مولوی محمد عبد اللہ صاحب جو ان دنوں مدرسہ احمدیہ کے طالب علم تھے ساتھ جاتے رہے ہیں۔کھجالہ میں انتہائی تعصب پایا جاتا تھا۔ایک دفعہ وہاں کے لوگوں نے ماسٹر صاحب کو مسجد میں گھیر لیا اور سونٹوں سے پیٹا۔مولوی صاحب اور ایک دو طلباء نے مجمع میں جا کر آپ کی حفاظت کی۔مخالفین راستہ میں پھر لاٹھیوں سے حملہ آور ہوئے اور مولوی صاحب کو بھی ایک لاٹھی پڑی جس کی تکلیف ایک لمبے عرصہ تک رہی۔باوجود اس کے ماسٹر صاحب کے جوش تبلیغ میں کوئی کمی نہیں آئی اور آپ اس علاقہ میں تبلیغ کے لئے تشریف لے جاتے۔آپ قادیان سٹیشن پر جاتے۔اور کسی واقف یا شاگرد کو سفر پر جاتا دیکھتے تو منت خوشامد کر کے تبلیغی چارٹ ساتھ لے جانے پر آمادہ کرتے اور تاکید فرماتے کہ منزل مقصود پر پہنچ کر آپ اسے کسی ایسی اچھی جگہ لٹکائے رکھیں جہاں ایک کثیر تعداد اسے پڑھ سکے۔آپ کو کوئی نہ کوئی نیک بخت انسان چارٹ لے جانے والا مل ہی جاتا۔حضرت ماسٹر صاحب کی قبولیت دعا کے باعث آپ کے شاگرد بہت ڈرتے تھے اور امتحان کے قریب اپنی کوتاہیوں کی معافی طلب کر کے دعا کے لئے عرض کرتے اور آپ وسعت قلبی سے معاف کر کے خود بھی دعا کرتے اور لڑکوں کو بھی خصوصاً دعا کر کے سونے کی نصیحت کرتے اور فرماتے کہ دوسری دعاؤں کے علاوہ یا خبیر اخبرنی کی دعا تین بار کر کے سونے پر خدا تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ذریعے امتحان میں آنے والے بعض سوالات سے بھی آگاہ کر دیتا ہے۔ضروری ہے کہ دعا کرنے والا قلم کا غذ اور روشنی کا انتظام رکھے تا بعد میں فوری طور پر ضبط تحریر میں لاسکے چنانچہ کچھ طلباء اس گر سے بہت مستفید ہوئے۔مکرم راجہ محمد یعقوب صاحب کارکن خلافت لائبریری ربوہ نے بتایا کہ ایک دفعہ ہماری جماعت میں آپ اپنے ساتھ وہ رجسٹر لائے جس میں قبولیت دعا کے واقعات درج تھے۔لڑکوں نے آپ کا یہ مقام دیکھا تو بہت خوف زدہ ہوئے اور آپ کی شان میں کوئی بات کرنے سے محتر ز رہنے کا عہد کیا ( بیان اخویم موصوف ) آپ کے منہ سے نکلی ہوئی عام باتیں بھی پوری ہو جاتی تھیں بعض لڑکوں کو آپ کہتے ” کا کا تو گنے بیچ۔کا کا تم کوئی موٹا کام کرو۔وغیرہ۔گویا تم سے پڑھائی نہیں ہوسکتی۔چنانچہ یہ