اصحاب احمد (جلد 7) — Page 130
130 جب حضور فصیح و بلیغ عربی میں تفسیر قرآن علما کے مقابلہ میں لکھ رہے تھے تو حضور نے فرمایا کہ ان دنوں میں بچوں کو پڑھا کر ہمارے گھر میں ہی سو جایا کرو چنا نچہ اس موسم سرما میں دار مقدس میں شب باش ہوتے رہنے کا فخر رکھتا ہوں‘ ( قلمی مسودہ ) بروایت سردار بشیر احمد صاحب) حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالیٰ کو بھی آپ تعلیم دیتے رہے ہیں۔سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔میں آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے خود نہیں پڑھ سکتا تھا۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب مجھے سناتے جاتے تھے اور میں سنتا تھا۔اس بات کو سترہ سال کے قریب ہو گئے ہیں۔مگر اس وقت کے مجھے فقرے کے فقرے ابھی تک یاد ہیں۔(141)<< ماسٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں: میں حضرت مسیح موعود کی ذریت طیبہ کو نہ صرف اسکول میں بلکہ اندرون خانہ بھی تعلیم دیا کرتا تھا۔ایک دفعہ میں صبح کے وقت حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو بیت الدعا میں کچھ پڑھا رہا تھا اور حضور لوٹا لئے ہوئے قضاء حاجت کے لئے بیت الدعا میں سے گذرے۔حضور نے فرمایا کہ ان بچوں نے قوموں کا سردار بننا ہے۔ان کو بڑی محنت اور اخلاص سے پڑھایا کرو“۔میں نے عرض کی کہ میں تو اخلاص اور محبت سے تعلیم دیا کرتا ہوں۔حضور میرے لئے اور میری اولاد کے لئے بھی دعا کریں۔حضور نے ( پنجابی میں ) فرمایا جسنی کہو ایسی ہی دعا کروں گا۔یعنی جتنی کہ اتنی ہی دعا کروں گا۔یہ حضور کی دعا ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے میری اولا د کو ایسی نافع تعلیم دلائی کہ میری دولڑ کیاں ڈاکٹر ہیں اور ایک لڑکا میڈیکل آفیسر ہے۔( قلمی مسودہ) ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کو حبشہ وغیرہ میں تبلیغ اسلام کے مواقع ملے نیز دیگر مالی خدمات کے علاوہ تمام اولاد کو تحریک جدید کی خدمات کی توفیق مل رہی ہے مثلاً ڈاکٹر صاحب نے ہزار قرش چندہ تحریک جدید میں ادا کیا اور سردار بشارت احمد خان صاحب اور ان کے اہل و عیال نے قریباً چار ہزار شلنگ۔(142) ڈاکٹر محمودہ بیگم صاحبہ سلسلہ کی تحریکات میں ہمیشہ فراخدلی سے حصہ لیتی ہیں اور فضل عمر ڈسپنسری کراچی میں روزانہ کچھ وقت دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود کی کون سی ادا پیار لگی“ کے عنوان کے تحت ماسٹر صاحب لکھتے ہیں: میں سکھ سے مسلمان ہوا میرا دل اسی محبت کا شکار ہوا جو حضور اپنے خدام سے فرمایا کرتے تھے وہ ایسی