اصحاب احمد (جلد 7) — Page 129
129 تھے لوگوں سے حضرت مسیح موعود کی بود و باش۔رہائش مکان اور اندر باہر آنے جانے کی جستجو کرتے تھے۔میں نے حضرت اقدس کو اطلاع کر دی حضور نے حاکم علی سپاہی کے ذریعہ ان لوگوں کو بٹالہ پہنچادیا۔“ کرم دین والا مقدمہ جو اواخر ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۴ ء تک گورداسپور میں جاری رہا۔اس کے متعلق ماسٹر صاحب بیان فرماتے ہیں : جن دنوں حضور پر مقدمات دائر تھے اور حضور کو اکثر گورداسپور میں ہی رہنا پڑتا تھا تو آپ کی غیر حاضری میں مکانات مقدسہ کی میں ہی نگرانی اور پہرہ کا انتظام کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ حضور نے لکھا کہ بیت الفکر جو۔۔۔مسجد سے بجانب شمال ملحقہ کمرہ ہے اس میں پہرہ داران کو سُلانے کا انتظام کروں اور عموماً یہی ارشاد ہوا کرتا تھا ( قلمی مسوده) (*) سردار بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب ذکر کرتے تھے کہ میں بورڈنگ کے لڑکے یا مہمان خانہ کے آدمی پکڑ پکڑ کر پہرہ پر لگا دیا کرتا تھا اور خود بھی حضور کے گھر سوتا تھا۔انہی ایام میں حضرت اقدس نے ماسٹر صاحب کو پہرہ کے متعلق ذیل کا مکتوب ارسال فرمایا جس میں حضور نے ہدایات بھی دی ہیں۔مکتوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسٹر صاحب پہرہ کے انتظام کے متعلق کارگزاری کی اطلاع حضرت اقدس کی خدمت میں بھجواتے تھے۔بسم اللہ الرحمن الرحيم محمدہ ونصلی مکتوب گرامی تھی اخویم ماسٹر عبدالرحمن صاحب سلمہ اللہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته آپ کے سب خطوط پہنچے جزاکم اللہ خیرا۔مگر میرے نزدیک سب پہرہ چوکی بے فائدہ ہے جب تک مسجد کے اندر اور بیت الفکر کے اندر دو تین آدمی نہ سلائے جائیں سو یہ کوشش کریں کیونکہ گھر کے لوگ سب باہر کے دالان میں رہتے ہیں اور دالان خالی رہتا ہے۔بہت تاکید ہے۔والسلام خاکسار میرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ آپ کو حضرت اقدس کی اولاد کو تعلیم دینے اور حضور سے اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے دعائیں لینے کا موقع ملا۔آپ تحریر فرماتے ہیں تفسیر نویسی کے دعوت مقابلہ کا زمانہ ۱۹۰۲ء کا ہے روایت میں خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔