اصحاب احمد (جلد 7) — Page 128
128 (☆) مولانا عبدالرحیم صاحب درد کی کوٹھی ہے اور میں اس میں اکیلا رہا۔دوسرے روز منشی غلام محمد صاحب اور ماسٹر سکنہ علی صاحب مدرسین ہائی اسکول بھی میرے پاس آگئے۔ایک روز صبح کی نماز کے بعد میں چار پائی پر بیٹھا قرآن مجید پڑھ رہا تھا کہ چار پائی ملنے لگی میں نے کہا کہ کون چار پائی ہلا رہا ہے۔مگر معلوم ہوا کہ زلزلہ آیا۔سخت جھٹکے آئے۔ڈھاب کا پانی باہر آ کر مچھلیاں باہر آگئیں۔بڑ کا درخت یوں ہلتا تھا جیسے ایک شاخ ہلائی جاتی ہے۔قادیان میں مکان کوئی نہیں گرا ( بواسطه سردار بشیر احمد صاحب) (*) ماسٹر صاحب کو الزار کے پہرے کا انتظام کرنے کا بھی شرف حاصل ہے چنانچہ آپ بیان کرتے ہیں: جن ایام میں پیر مہر علی گولڑوی کو حضور نے مقابلہ تفسیر نویسی * لکھنے کا چیلنج دیا ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا کہ بعض لوگ حضور کی جان پر حملہ کرنے کو آئیں گے۔چونکہ میں حضرت اقدس کے مکانات کے پہرہ کا انتظام کیا کرتا تھا۔مجھے پتہ لگا کہ ضلع راولپنڈی کے دو تین اشخاص جو پیر مہر علی شاہ کے فرستادہ معلوم ہوتے (7) سردار بشیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ محترمہ والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ اس وقت باغ بادیان کے اوپر چڑیاں اور کوے کائیں کائیں کرتے اڑتے تھے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ دو تین سال ہوئے باووں کا باغ، باغیچی شاہ چراغ اور بڑے باغ کے جانب جنوب مغرب آموں کا باغ سب کاٹ کر کھیت بنائے جاچکے ہیں۔دفتر محاسب والے کمرہ سے وہ حصہ مراد ہے جو مرزا امام الدین کمال الدین صاحبان کا تھا۔اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کے مکان کی جانب جنوب گلی کے پار ہے اور جس میں ایک عرصہ دراز تک دفتر نظارت بیت المال رہا ہے تقسیم ملک سے قبل اس میں دفتر محاسب منتقل ہو گیا تھا۔۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود کی ایک وحی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (139)۔۔ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کائی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی ، اگر وہ تو بہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔اسی طرح ۱۸۸۸ء میں محمدی بیگم کے تعلق میں اقارب کی سرکشی کے سب اللہ تعالیٰ نے وحی ک میں نے ان کی نافرمانی اور سرکشی کو دیکھا ہے۔میں ان پر طرح طرح کی آفات ڈال کر انہیں آسمان کے نیچے سے نابود کر دوں گا۔میں ان کی عورتوں کو بیوہ ، ان کے بچوں کو یتیم اور ان کے گھروں کو ویران کر دوں گا۔میں انہیں ایک دم ہلاک نہیں کروں گا بلکہ تدریجا پکڑوں گا۔تا کہ انہیں رجوع اور تو بہ کا موقعہ ملے۔میری لعنت ان پر ، ان کے گھروں پر ، ان کے چھوٹوں اور بڑوں پر ان کی عورتوں پر اور مردوں پر۔اور ان کے اس مہمان پر جو ان کے گھر میں داخل ہوگا ، پڑے گی اور ان تمام پر لعنت بر سے گی۔(140) (ترجمہ) موصوفہ کی خواب میں اسی امر کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شدید اور مورد غضب اقارب کے مکانات میں ایک متوقع عذاب الہی کے موقعہ پر قیام نہیں کرنا چاہیے۔