اصحاب احمد (جلد 7) — Page 127
127 بچنے کی اب کوئی امید نہیں ہے۔میری ساس سن رہی تھی وہ دوڑی دوڑی حضرت صاحب کے پاس گئی کہ فضل الرحمن آج بہت بیمار ہے۔حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے کہو کہ توجہ سے علاج کریں۔وہ کہنے لگی کہ مولوی صاحب تو نا امید ہیں۔حضور نے فرمایا ابھی تو میں نے اس سے بہت کام لینے ہیں۔میں دعا کرتا ہوں وہ اچھا ہو جائے گا تو سراٹھاؤں گا۔صبح کے وقت حضور نے ماسٹر عبدالرحمن صاحب کو بھیجا کہ جاؤ فضل الرحمن کا پتہ لاؤ مجھے تسلی دی گئی ہے کہ اچھا ہے ماسٹر صاحب نے مجھے دیکھا تو ان کو بتایا گیا کہ خون کے دست آئے ہیں مگر میں حضور کی دعا سے اچھا ہو گیا ہوں کیا کہ: (138) حضرت اقدس کے آپ سے مشفقانہ سلوک کا اندازہ آپ کی دو روایات سے ہوتا ہے۔آپ نے بیان ایک دفعہ مجھے خواب آئی کہ ایک پلیٹ میں کچھ کچا گوشت ہے۔وہ ہوا میں ادھر ادھر ملتی ہلاتی رہی پھر میرے پیٹ میں گھس گئی۔بعد ازاں مجھے سخت بخار آیا اترنے میں نہ آتا تھا۔میں نے جموں جا کر معائنہ کرایا۔ڈاکٹر نے کہا کہ پھیپھڑے درست ہیں۔وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب سے نسخہ منگوایا۔اس سے آرام آگیا۔لیکن قادیان آنے پر پھر طبیعت خراب ہوگئی۔میں نے حضرت اقدس سے ذکر کیا ، ان دنوں حضرت اُم المومنین بیمار اور کمزور تھیں۔حضور کو الہامی طور پر بتلایا گیا کہ ان کے لئے قرابا دین قادری کا نسخہ بنایا جائے۔چنانچہ حضور نے وہ نسخہ تیار کرایا اس میں سے مجھے بھی دواڑ ہائی پاؤ دیا۔اس کے استعمال سے میں ٹھیک ہو گیا۔ا لحمد للہ۔۱۹۰۵ء میں طاعون کا سخت زور تھا۔میں گلگت ہاؤس کی طرف رہتا تھا۔وہاں چاروں طرف طاعون کے کیس ہوئے۔ایک شخص کے چار جوان لڑکے ایک ہی روز میں فوت ہو گئے۔مجھے بُن ران میں در دمحسوس ہوا۔میں نے کہا کہ اگر وعظ ونصیحت کی جائے اور خدا تعالیٰ کا کام کیا جائے تو خطرہ ٹل جاتا ہے چنانچہ چند عورتیں ہی مل سکیں ان کو جمع کر کے وعظ ونصیحت شروع کر دی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے شام تک درد جاتی رہی۔الحمد للہ۔اسی مکان میں مجھے ایک متوحش خواب آئی۔میں اپنی بیوی اور بشارت احمد مرحوم اپنے بچے کو لے کر محاسب کے دفتر والے کمرہ میں آگیا۔وہاں رات کو میری بیوی کو خواب میں کسی نے کہا تم یہاں کہاں آگئیں۔یہاں تو وہ آکر رہے سب بچے مروادینے ہوں۔میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کے پاس گیا اور ماجرا عرض کیا۔انہوں نے فرمایا تم وہاں کیوں چلے گئے۔اس گھر کی تو اینٹ سے اینٹ بجنے والی ہے۔چنانچہ میں حضرت مسیح موعود کے پاس گیا اور قصہ عرض کیا۔حضور نے از راہ نوازش اپنا فراخ خیمہ عطا کیا میں نے اس جگہ پر لگا لیا جہاں دارا الانوار میں