اصحاب احمد (جلد 7) — Page 122
122 ان کے اہل وعیال بھی۔منشی اللہ دتا صاحب نے جو قادیان میں پوسٹ ماسٹر رہ چکے تھے یہ شہادت دی کہ اچھر چند مذکور سے گفتگو کرتے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب (عرفانی) نے بتایا کہ حضرت مرزا صاحب کا طاعون سے محفوظ رہنا ایک نشان ہے اس پر اچھر چند نے کہا تھا کہ لو میں مرزا صاحب کی طرح دعوی کرتا ہوں کہ میں طاعون سے نہیں مروں گا جس پر اسے کہا گیا کہ تو ضرور طاعون سے ہلاک ہوگا * ☆ ماسٹر صاحب نے بیان کیا: حضور نے مجھے قادیان کے ” آریہ اور ہم رسالہ کے چند نسخے دیئے کہ آریوں اور ہندوؤں کی دکانوں پر یہ رسالے تقسیم کر آؤں۔چنانچہ میں نے یہ رسائل آریوں کو دیئے اور دوکانوں پر بھی ڈال آیا۔اللہ تعالیٰ کا قہر اس طرح سے نازل ہوا کہ اخبار مذکور کا ایڈیٹر سو مراج اور مینجر اور سب ایڈیٹر کو طاعون ہو گئی اور ادھر حضرت اقدس کو الہام ہوا لَا تَنْفَكَا مِنْ هَذِهِ الْمَرْحَلَةِ * * چنانچہ سو مراج ایڈیٹر * اور اس کے بچے اور بیوی اور بھگت رام اور اچھر چند جو اخبار مذکور کے افراد عملہ تھے سب طاعون میں مبتلا ہو گئے اور یکے بعد دیگرے سب مر گئے۔اس اخبار کا کا تب ایک غیر احمدی (مسلمان ) تھا۔وہ قادیان سے بھاگ کر بٹالہ چلا گیا۔اس کے پیچھے پیچھے طاعون گئی اور وہ بٹالہ میں طاعون کا شکار ہو گیا اس یک لخت تباہی سے بعض احمدی اصحاب خوش ہوئے کہ ان مفسدوں کا قلع قمع ہو گیا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ غضب میں ہے۔کسی قسم کی شوخی ہماری طرف سے نہیں ہونی چاہیے۔اس زمانہ میں نواحی علاقہ میں طاعون کا بہت زور تھا اور بعض دیہات میں لوگ کتوں کی طرح مرتے تھے اور ہماری مساجد میں دعا۔استغفار اور ذکر الہی کا زور تھا۔ان دنوں حضور نے (تریاق الہی ) دوائی برائے علاج طاعون بھی تیار کرائی تھی۔اس کی تفصیل حقیقۃ الوحی ( تتمہ ) ص ۵۲ او ما بعد میں مرقوم ہے۔پورے الفاظ ہیں۔اَحَقَّ اللَّهُ أَمْرِى وَلَا تَنْفَكَامِنُ هَذِهِ الْمَرْحَلَةِ۔(130) ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے میری بات کو سچا کر دیا اور تم دونوں اس مرحلہ سے نہیں چھوٹو گے۔یہ الہام ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء کا ہے۔جس کے بعد یہ لوگ طاعون سے ہلاک ہو گئے۔ایڈیٹر شبھ چنتک کے بارے میں ایک روایت حضرت منشی ظفر احمد صاحب اصحاب احمد جلد ۴ ص میں قابلِ مطالعہ ہے۔