اصحاب احمد (جلد 7) — Page 120
120 ماسٹر صاحب نے بیان کیا حضور نے فرمایا: طاعون بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے آئی ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ہمارے گھر کو بالکل طاعون سے محفوظ رکھا اور ایک چوہا تک طاعون سے بیمار نہیں ہوا۔حالانکہ ہمارے گھر کے چاروں طرف طاعون کے کیس ہورہے ہیں۔حضور علیہ السلام کے گھر میں ان دنوں ایک سو بیس سے لے کر ایک سو پچاس تک افرا در ہتے تھے، اردگرد کے گھروں میں جہاں تین تین چار چار نفوس رہتے تھے ان میں سے کسی گھر سے ایک اور کسی گھر سے دو افراد طاعون سے مر گئے۔غرض شمال جنوب ، مشرق و مغرب چاروں طرف طاعون نے ہلاکت اور تباہی مچائی ہوئی تھی (128) ماسٹر صاحب کے قلمی مسودہ میں اس بارہ میں مزید مرقوم ہے کہ: شمال کی طرف مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کا مکان ہے اس طرف بھی طاعون کا کیس ہوا اور ساتھ کے سکھوں کے مکانوں میں بھی طاعون کے کیس ہوئے اور غرب میں ہندو ڈ پٹی کے مکان میں اور دیگر ملحقہ مکانات میں طاعون کی واردات ہوئی۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضور کے مکان کو کشتی نوح کی طرح طاعون سے بچائے رکھا۔(۴۰) ماسٹر صاحب بیان کرتے تھے : ے، یا ۱۹۰۶ ء کا واقعہ ہے کہ آریوں کا ایک اخبار شبھ چنتک“ قادیان سے شائع ہوتا تھا۔اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کثرت کے ساتھ دل آزار مضامین شائع ہوتے تھے۔ہمیں اس اخبار کو پڑھ کر از حد غصہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس کا جواب نہ دے۔ہم خود جواب لکھیں گے۔چنانچہ حضرت صاحب نے رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم تالیف فرمایا۔اس رسالہ میں اپنے نشانات پیش کر کے لالہ ملا وامل اور لالہ شرمیت کو چیلنج دیا کہ وہ میرے ان نشانات کے گواہ ہیں اگر یہ نشانات برحق نہیں تو حلفیہ انکار کر کے اشتہار شائع کر دیں پھر دیکھو کہ عذاب الہی کس طرح ان پر مسلط ہوتا ہے آپ نے فرمایا کہ یہ تو ممکن ہے کہ یہ لوگ حق کو ٹالنے کے لئے بغیر الفاظ مباہلہ یا قسم کے ایسا اشتہار دیدیں۔مگر یہ ممکن نہیں کہ مؤکد بعذاب قسم کے ساتھ انکار کر کے کوئی اشتہار شائع کریں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ نے ان دونوں