اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 5 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 5

5 کیونکہ دوبارہ ان سے ملاقات کرنا ایک امر محال ہو جاوے گا۔پس آج ان مربی اور محسن لوگوں کے احسانات اور فوائد دنیوی سے بکلی ناامید ہو جاؤ۔پس تو اب اپنے تئیں ایسا فرض کر لے کہ گویا تو اپنے گھر اور اپنے پیارے والدین اور پیار کرنے والی بہنوں اور دیگر خویش و اقرباء سے الگ ہو کر دور کے لق و دق جنگل میں پڑا ہے جہاں چاروں طرف سے درندوں کی خوفناک آواز میں بدن پر لرزہ ڈالتی ہیں اور کوئی صورت بچاؤ کی نظر نہیں آتی اور سوائے مالک حقیقی کے تیرا کوئی غم گسار نہیں اور اپنوں اور بے گانوں کے احسانات اور محبتوں کو یاد کر کے جس قدر جدائی کا احساس ہو سکتا ہے یہیں کر لے۔ان خیالات میں ساتھ ساتھ دعا بھی کرتا تھا کہ۔وو ” ہے دیا لوکر پالو انو پیم! تو مجھے اس غم سے نجات بخش جس میں تو مجھے اب مبتلا دیکھتا ہے۔تیرے سوا کوئی اس امر سے واقف نہیں کوئی ایسی راہ دکھا جس سے مجھے اس غم سے رہائی حاصل ہو جاوے جس کا تیرے سوا اور کوئی چارہ گر نہیں اور تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔“ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر وعدہ کیا ہوا ہے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (2) کہ ہم وصال الہی کی سچی تڑپ رکھنے والوں کوضرور ہدایت عطا کریں گے۔گوماسٹر صاحب کے استاد کا جواب ناتسلی بخش اور مایوس کن تھا، وہ ذات جس نے یہ تڑپ آپ کے دل میں پیدا کی تھی اس کی نظر اعماق قلوب تک پہنچتی ہے اس نے آپ کی ہدایت کے سامان کر دیئے۔ماسٹر صاحب کہتے ہیں۔اس طرح درگاہ الہی میں نہایت سوز وگداز اور تضرع والتہاب سے دعائیں کرتا تھا۔آخر اسی حالت میں نیند آ گئی اور خواب میں دیکھا کہ میں گھر سے بھاگا ہوں اور اپنی گلی میں جہاں جہاں قدم رکھتا ہوں قدم قدم پر آتش سوزاں کا کنواں نکل آتا ہے جس میں سے آگ کے خوفناک شعلے نکل رہے ہیں لیکن یہ عاجز مغرب کی طرف بھاگا جاتا ہے اور آٹھ کوس تک یہی حالت رہی۔آخر کار یہ عاجز ایک مکان پر چڑھ گیا مگر اس کی چھت پھٹ گئی اور آتش کدہ نمودار ہو گیا۔پھر میں اس مکان سے نیچے کود پڑا اور آنکھ کھل گئی۔وو اس وقت میں نہیں جانتا تھا کہ خواب کیا ہوتا ہے اور اس کی تعبیر کیا حقیقت رکھتی ہے مگر اس خوفناک نظارے کی کیفیت میرے دل میں رہ گئی اور گھر والوں کی محبت میرے دل سے کم ہوتی گئی اور اپنے سکونتی مکان سے روز افزوں محبت سرد ہوتی گئی چند روز کے بعد اس عاجز نے پھر نہایت گریہ و بکا سے جناب الہی میں عرض کی کہ : ” ہے قادر کر تار جب تو نے یہ سوز اور جلن اور عشق میرے دل میں بھڑ کا دیا ہے تو پھر تو ہی اس کا علاج کر اور اس پیاس کو بجھا کہ تیری درگاہ میں کسی چیز کی کمی نہیں اور تیری پاک ذات میں بخل بھی نہیں۔پھر تو مجھے صاف طور سے صراط مستقیم دکھا دے۔میں بچے دل سے اس امر پر تیار ہوں کہ تجھے راضی کروں جس مذہب میں میں تجھے خوش اور راضی کر سکتا ہوں مجھے اس سے اطلاع بخش کہ میں تیرے لئے ہر ایک عزیز اور محبوب تعلق دار کو چھوڑنے