اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 103 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 103

103 خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔چنانچہ تمام فقرات چھپے ہوئے موجود ہیں جن کا نام خطبہ الہامیہ ہے۔اس کتاب کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ کیا کسی انسان کی طاقت میں ہے کہ اتنی لمبی تقریر بغیر سوچے اور فکر کے عربی زبان میں کھڑے ہو کر محض زبانی طور پر فی البدیہہ بیان کر سکے۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔(101) روایات:۔روایات ذیل میں جس جگہ کسی واسطے کا یا کتاب کا حوالہ نہیں دیا گیا وہ سب حضرت ماسٹر صاحب کی قلمی موجود ہیں جو آپ نے اکتو بر ۱۹۵۱ء میں تحریر کی تھیں کہیں کہیں امر بیان کردہ معروف و مشہور ہونے کے باعث اس کا اختصار کر دیا ہے۔خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار مولف کی طرف سے بطور تشریح درج ہوئے ہیں۔زیر مدينة المسيح الفضل ومئی میں ماسٹر صاحب کی دینیات کلاس خدام الاحمدیہ میں ذکر حبیب پر تقریر کرنے کا ذکر آتا ہے لیکن یہ تقریر کسی جگہ چھپی ہوئی نہیں ملی۔روایات ذیل میں نمبر ۴۱ پر جو روایت رکھی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ صحابہ کی روایات کا مرتبہ ظاہر ہو نیز حضرت ماسٹر صاحب کا روایات کے تعلق میں مقام ظاہر ہو۔(۱) نبوت حضرت مسیح موعود کے بارے میں نظارت تالیف و تصنیف کے استفسار پر ماسٹر صاحب نے اپنی قلم سے ۶/۵/۳۵ کو ذیل کا حلفیہ بیان دیا۔میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں آپ کو اصلی معنوں میں نبی اور رسول یقین کرتا تھا آپ محمد اے کے علوم و فیوض روحانیت کے وارث ہو کر اپنے آئینہ میں محمدی خلق کا ایسا انعکاس کرتے تھے۔کہ گویا آپ روحانی طور پر محمد ہی ہیں۔آپ نے محمد میں فنافی الرسول ہو کر محمدی نبوت کی چادر اوڑھ لی محمد علیہ استاد اور آپ شاگرد ہیں جن میں دوئی نہیں تھی۔آپ تمام انبیاء کے بروز ہو کر خدا کے حکم سے ایسے نبی اور رسول تھے جیسے انبیاء سابقین مگر آپ نے نبوت کا لقب اطاعت نبوی میں محو ہو کر بطور موہبت کے حاصل کیا۔یعنی پورے نبی تھے مگر بغیر شریعت جدیدہ کے یعنی امتی نبی تھے۔(چشمہ معرفت ) میرے اس عقیدے کی بنا’ایک غلطی کا ازالہ پر اور الہامات حقیقۃ الوحی اور خطبہ مولوی عبد الکریم پر تھی جو انہوں نے اس موضوع پر کہا اور براہین احمدیہ حصہ پنجم کی بنا پر میرا عقیدہ تھا۔میرے روبرو حضرت مسیح موعود نے مسودہ ایک غلطی کا ازالہ مسجد مبارک میں بنایا اور ہم سب نے تصدیق کی ، اس وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حکیم فضل دین صاحب حضرت خلیفتہ اسیح اول بھی موجود تھے۔حضرت نے فرمایا کہ میں نے اس اشتہار میں اس قدر مسئلہ نبوت کو بار بار دوہرایا ہے کہ بلاغت کو بھی بطہ لگا دیا۔