اصحاب احمد (جلد 7) — Page 98
98 پانا جس قدر اہمیت رکھتا ہے محتاج بیان نہیں۔اولین مجلس شوری میں باون بیرونی جماعتوں کے اور تمہیں قادیان کے مرکزی نمائندگان نے شمولیت کی تھی۔مرکزی نمائندگان میں ماسٹر صاحب بھی شامل تھے۔بعد ازاں بھی آپ بہت سی مجالس میں بطور کارکن یا بطور صحابی شمولیت کا موقع پاتے رہے۔* (۷) ایک خاص مجلس شوریٰ کے رکن :۔۱۹۲۴ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے یورپ کے تاریخی اور نہایت اہم اور موعود سفر پر تشریف لے جانے سے قبل اار جولائی کو خطبہ جمعہ میں اپنے بعد انتظام کی تفصیل بیان کی ظاہر ہے کہ یہ انتظامیہ بھی ایک خاص اہمیت کی حامل تھی۔سارے ہندوستان کے لئے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو امیر اور ان کے دو نائب بطور مشیر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالیٰ اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو مقرر کیا اور فرمایا کہ: مولوی شیر علی صاحب میرے نائب کی حیثیت سے ان امور کو جو خلافت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں میرا مشورہ نہیں ہو سکتا یا مشورہ کی ضرورت نہیں ہے ان کے مشورے سے طے کریں گے۔“ اس کے علاوہ ایک مجلس شوریٰ مقرر کرتا ہوں جس میں مجلس مشاورت کے وہ ممبر جو قادیان میں ہوں یا باہر سے آئے ہوں مشورہ دیں گے۔اس مجلس شوریٰ میں حسب ذیل ممبر ہوں گے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب ، قاضی امیر حسین صاحب ، سید ولی اللہ شاہ صاحب، ماسٹر عبدالمغنی صاحب ، قاضی عبد اللہ صاحب، قاضی اکمل صاحب، مولوی فضل الدین صاحب، میر محمد اسحاق صاحب، مولوی محمد اسماعیل صاحب، میر قاسم علی صاحب اور شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور، ماسٹر عبدالرحمن صاحب ، ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب۔میرا نائب عام طور پر عام معاملات میں انہیں لوگوں سے مشورہ لے گا جیسے میں بھی مشورہ لیتا ہوں۔“ ان ارکان شوری کی خصوصیات کا حضور نے ذکر کرتے ہوئے ماسٹر صاحب کے متعلق فرمایا: ماسٹر عبدالرحمن صاحب نہایت کارکن ہیں تبلیغ کا اتنا جوش ہے کہ بعض کی نظروں میں جنون ہے ایسے وجود نہایت ہی مفید ہوتے ہیں اور تمام کے متعلق فرمایا “ یہ ☆ لوگ میری نظروں میں سلسلہ کے لئے اچھا کام کر سکتے ہیں۔۔۔میں ان تمام لوگوں سے یہ مشاورت کی ساری رپورٹیں دستیاب نہیں ہوئیں جو مل سکی ہیں۔اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۲۲ء سے ۱۹۲۵ء تک اور ۲۸۔۱۹۲۷ء اور ۱۹۳۳ء سے ۱۹۴۰ء تک (بشمول ۳۶ ء کی دونوں مشاورتوں کے ) اور ۱۹۴۳ء میں گویا کم از کم سولہ مجالس شوری میں آپ کی شمولیت کا موقع ملا۔