اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 97 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 97

97 ماسٹر صاحب نے روپے لینے کے بجائے یہ پسند کیا کہ محلہ دار الفضل والی سات آٹھ کنال اراضی کے مالکانہ حقوق آپ کو منتقل کر دئے جائیں جو آپ نے خریدی ہوئی تھی۔چنانچہ حضرت ممدوح نے ایسا ہی کر دیا۔حضرت میاں محمد شریف صاحب اکسٹر اسٹنٹ کمشنر پنشنر لاہور حال مقیم ربوہ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۶ء میں میں بھی مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں مدرس تھا۔دسویں کے طلباء کو امتحان دلانے کے لئے امرتسر گیا ہوا تھا۔اور حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب بھی ان دونوں اس مدرسہ کے مدرس تھے ایک روز آپ کا ایک خط مجھے بٹالہ پہنچا جس میں آپ نے مجھے تاکیدا لکھا تھا کہ یہ یہ تین سوالات بچوں کو امتحان کے کمرے میں جانے سے پہلے ضرور یاد کروادوں۔امتحان شروع ہونے میں ابھی دو تین گھنٹے باقی تھے میں نے یاد کروائے۔چنانچہ یہ تینوں سوالات پرچے میں آئے اور طلباء کو قبل از وقت یاد کرانے کا بہت فائدہ ہوا۔مجھے اب تک یاد ہے کہ ایک سوال Natural Phenomena کے متعلق تھا۔* سلسلہ کے لٹریچر میں ذکر :۔سلسلہ کے لٹریچر میں بے شمار مقامات پر آپ کا ذکر آتا ہے۔دیگر عنوانات میں حوالہ جات درج کئے گئے ہیں۔مزید چند ایک یہاں رقم کئے جاتے ہیں۔(۱) الحکم ۲۴/۱۱/۰۵ ص۱) میں آپ کی علالت کا ذکر ہے۔(۲) الفضل ۲۸/۷/۲۱،۲۱/۶/۲۰ آپ کو جنم ساکھی بھائی بالا وغیرہ کی ضرورت تھی۔حاصل کرنے کے متعلق اعلان۔(۳) الفضل ۱۰۱۱/۵۶ میں آپ کے ایک پوتے کی طرف سے مختصر حالات شائع ہوئے ہیں۔(۴) زیرہ دارالامان کا ہفتہ “الحکم ۱۲/۵/۱۴ ص ۸ ک امیں مرقوم ہے کہ ماسٹر صاحب جو دو سال کی رخصت پر جموں بی اے کا امتحان دینے کے لئے گئے تھے بعد امتحان واپس تشریف لے آئے ہیں اور ۲۸ جون ، ے جولائی کے پرچے میں آپ کی کامیابی کے لئے دعا کا اعلان ہے۔(۵) آپ کی اہلیہ اول کی وفات پر تعزیتی خطوط لکھنے والوں کا آپ نے شکر یہ الفضل ۲۴/۶/۴۷ میں ادا کیا (ص۴) (۶) مجلس شوری :۔قرآن احکام اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے شوری کے باقاعدہ انعقاد کا انتظام ۱۹۲۴ء میں فرمایا یہ نظام جس قدر بابرکت ہے اور اس کا رکن بن کر کام کرنے کی توفیق خاکسار کو میاں صاحب نے یہ واقعہ سنایا۔(مؤلف) ☆