اصحاب احمد (جلد 6) — Page 94
94 ملکا نہ شدھ نہیں ہو سکتے۔اس بارہ میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور پھر جنوری ۱۹۲۴ء میں اعلان کیا کہ ساندھن کا قلعہ بھی ٹوٹ گیا اور ہندو اخبارات نے آگرہ سے آمدہ ایک تار جلی حروف سے شائع کیا کہ مسلمان رؤساء نے کوشش کر کے دفعہ ۱۴۴ نافذ کرادی۔پھر اس میں توسیع کرا دی تا کہ آریہ جلسہ نہ کرسکیں۔لیکن شدھی سمجھا کی متواتر مساعی اور ملکانہ راجپوتوں کی زبر دست خواہشوں سے قریباً سارا علاقہ شدھ ہو گیا۔اس غلط اطلاع کی تردید قاضی عبد اللہ صاحب نے بطور امیر المجاہدین کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ آریہ سماجیوں نے بہت جتن کئے مختلف دیہات سے مرتدین کو جمع کیا۔ساہوکاروں کے اثر واقتدار کو کام میں لائے اور جو مذہب فروخت کرنا چاہتے تھے۔ان کو سینکڑوں روپے پیش کئے۔لیکن احمدی مبلغین نے ایسا مذہبی جوش پیدا کر دیا تھا کہ مخالفین کی ساری کارروائیاں ناکام ہوئیں۔حکام نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔آریوں نے کوشش کی کہ چند روز کیلئے یہ دفعہ معطل کر دی جائے تا وہ شدھی کر سکیں۔اس سے مسلمانوں میں سخت جوش پھیلا اور نمبر دار کلکٹر سے ملے۔چنانچہ ایک یورپی افسر کی زیر نگرانی ایک دستہ مسلح پولیس کا وہاں پہنچ گیا۔سوآر یہ مایوس ہوئے اور ان کو ندامت اٹھانی پڑی اور نا کامی کو چھپانے کیلئے پر چارکوں نے دو افراد کی منتیں کیں۔روتے ہوئے پاؤں پڑے اور کہا کہ اس وقت ہماری لاج رکھ لو۔لیکن وہ صرف زنار پہننے پر راضی ہوئے۔لیکن اسے بھی ایک نے ان کے سامنے تو ڑ دیا اور پھر ایک گھنٹہ بعد ہمارے ساتھ انہوں نے نماز ادا کی۔(52) مخالف اخبارات غلط خبریں بھی شائع کرتے تھے مثلاً اخبار تیج نے شائع کیا کہ ایک اشدھ راجپوت سے قادیانی شرارتیں کر رہے ہیں۔اس خبر کی قاضی صاحب نے تردید ارسال کی۔(53) نام نہاد مولویوں نے تبلیغی جہاد میں اس موقعہ پر بھی فتنہ انگیزی میں کسر نہ اٹھا رکھی۔گویا بقول اقبال۔دینِ مُلا فی سبیل اللہ فساد۔فروری میں فرخ آباد میں علماء کی تقاریر میں حضرت مسیح موعود کو گالیاں دی گئیں اور اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں لوگ احمدی مبلغین کے مکان پر حملہ آور ہوئے۔(54) آپ بطور قائم مقام امیر المجاہدین ۳۱/ جنوری ۱۹۲۴ ء کی رپورٹ میں لکھتے ہیں غیر احمدی مولوی صاحب یہ مشہور کر رہے ہیں کہ احمدی ان کے ساتھ مباحثہ سے بھاگتے ہیں۔مولویوں کا یہ حال تھا کہ فرخ آباد میں ایک مولوی کے مریدوں نے ہمارے مبلغین پر حملے کئے تھے۔۶ فروری ۱۹۲۴ء کی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ موضع منگھول کے متعلق ( جو فرخ آباد سے سولہ میل پر ہے ) اطلاع ارتداد ملنے پر احمدی مبلغین فورا وہاں پہنچے۔البتہ کوئی غیر احمدی مولوی نہیں پہنچا۔یہ مولوی اور کارکنان خلافت صرف احمدیوں کے خلاف لوگوں کو مشتعل کرنے اور