اصحاب احمد (جلد 6) — Page 63
63 اب تک شرمساری میں دن گزار رہا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی کا متمنی رہتا ہوں۔وہاں سے آ کر کسی جگہ اطمینان قلب میسر نہیں ہوا۔،، اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی دفعہ واپسی کے نظارے نظر آئے ہیں اور اب اس سال جولائی پر نظر تھی۔لیکن موجودہ صورت میں اگر جنگ ہوگئی تو دونوں فریق احمدیت کو مٹانے میں یکساں ہیں جو کہ اچھے نہیں۔اللہ تعالیٰ واپسی کے پر امن ذرائع پیدا کر سکتا ہے۔مئی ۵۰ء میں میں نے دیکھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی میں حکومتوں کی میٹنگ ہورہی ہے۔اور شام کو وہ مجلس نا کام اٹھ گئی ہے اور بعد میں وہاں ڈاکو داخل ہو گئے ہیں اور سوسو روپیہ کے پاکستانی نوٹ باہر پھینک رہے ہیں۔پھر میں ملحقہ کوٹھی کے دروازے پر دستک دیتا ہوں تو اندر سے آواز آئی خطرہ خطرہ خطرہ پھر کوٹھی کی طرف گیا تو کھڑ کی کھلی ہے اور ایک ڈاکو مجھے نظر آیا جو چینی لباس میں ہے۔دو اور نظر نہیں آئے یعنی ڈاکو تین ہیں۔۔۔اس خط کا جواب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے لکھوایا کہ دشمن تو دونوں طرف ہیں۔ایک دشمن ہمارے ہاتھ میں آنے والا ہے۔ایک دشمن ضدّ کرنے والا ہے۔باقی فتح تو یقینی ہماری ہے۔““ * قاضی صاحب کے اس مکتوب سے آپ کی قادیان سے محبت اور تڑپ کا اندازہ ہوتا ہے۔جو جنون کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔آپ نے تقسیم ملک کے بعد خاکسار مؤلف کو ایک خط میں تحریر کیا کہ : ۱۳۸ء میں میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے بیت اللہ میں دو نفل پڑھے اور ان میں صرف استغفار (۱) کرتا رہا اور روتا رہا۔فراغت کے بعد اس شہر کو ایک طرف سے ہو کر بغور دیکھ رہا ہوں۔اور کہتا ہوں۔یہ شہر کیسا پُر امن (۲) ہے۔کوئی صورت ایسی ہو کہ اس میں ہم رہائش اختیار کریں۔(۳) یہ خواہش بار بار ہوتی ہے کہ اس شہر میں رہنا چاہئے۔خیال کرتا ہوں کہ یہ پر امن ہے کیونکہ اس پر بم باری (۴) نہیں ہوگی۔پھر سوچتا ہوں کہ کتنی بد قسمتی تھی کہ یہاں آنے پر تو صرف چھ روپے (۵) کرایہ لگتا ہے۔پھر کیوں میں ہر سال یہاں نہ رؤیا وغیرہ کی زبان بالعموم تعبیر طلب ہوتی ہے اور بسا اوقات پیشگوئی پورا ہونے پر ہی اس کی تعبیر کھلتی ہے۔ظفر سے مراد فتح وظفر ہے۔اور فتح وظفر کے الفاظ حضرت اقدس کی وحی میں بکثرت موجود ہیں۔احمدیت روحانی سلسلہ ہے اور اسکی فتح بھی روحانی ہے اور جہاد دلائل و براہین کا جہاد ہے۔