اصحاب احمد (جلد 6) — Page 59
59 قاضی عبد الرحیم صاحب رضی اللہ تعالی عنہ ولادت۔پیشہ۔۳۱۳ صحابہ میں شمار حضرت قاضی ضیاء الدین کے صاحبزادہ قاضی عبدالرحیم صاحب بمقام قاضی کوٹ ( ضلع گوجرانوالہ ) ۲۳ جون ۱۸۸۱ء کو پیدا ہوئے۔اور بمقام ربوہ ۲۹ اکتوبر۱۹۵۳ء کو اس دار فانی سے رحلت فرما گئے۔ابھی آپ صرف پونے آٹھ سال کے تھے کہ آغاز ہی میں آپ کے والد بزرگوار مارچ ۱۸۸۹ء میں حضرت مسیح موعود کی بیعت سے مشرف ہوئے۔اس طرح گویا آپ اپنے والد ماجد کی بیعت کے طفیل ہی حضرت اقدس کی بیعت میں شامل ہو گئے۔ابھی آپ ساڑھے پندرہ سال ہی کے تھے کہ اپنے والد ماجد کے تقوی وطہارت کے باعث ان کے ہمراہ خود بھی ۳۱۳ صحابہ میں شمار ہوئے۔آپ کا نمبر انجام آتھم میں ۱۴۵ پر درج ہے۔ڈائیری سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی قاضی نظیر حسن صاحب مرحوم سے جو جموں میں ہیڈ ڈرافٹسمین تھے۔نقشہ نویسی کا کام ۱۸۹۸ء میں سیکھا اور وہیں جموں میں محکمہ پبلک ورکس میں ملازم ہو گئے۔لیکن والد صاحب جون 1901 ء میں جب ہجرت کر کے قادیان چلے آئے تو آپ کی اسامی تخفیف میں آگئی تو آپ ستمبر 1991ء کی کسی تاریخ کو جو واضح طور پر پڑھی نہیں جاتی قادیان چلے آئے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں : * آج بٹالہ سے یکہ پر سوار ہو کر قادیان پہنچا۔شام کے وقت حضرت مسیح موعود سے ملاقات ہوئی۔یہاں مکان کی نہایت تکلیف ہے۔مگر دین کے واسطے یہ سب کچھ برداشت ہوسکتا ہے۔“ یکم اکتو برا ۱۹۰ء کے نیچے لکھتے ہیں: آج ابوی صاحب کی بجائے جو مجھ سے ۱۵ ماہ * پہلے دفتر ( یعنی دفتر تعلیم الاسلام۔ناقل ) میں محر رمقرر ہوئے تھے۔نوکر ہوا۔اس وقت سات روپے تنخواہ ہے۔یہ ستر روپے کے برابر ہیں۔نہایت شکر گزار اس رب العالمین کا ہوں۔“ حضرت اقدس اور قادیان سے محبت قادیان میں وجہ معاش۔ہجرت بطرف پاکستان قادیان میں وجوہ معاش جس قدر قلیل تھے۔اس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔والد ماجد والی محترری کی اسامی پر آپ متعین ہوئے تھے۔آپ اس پر قانع تھے کہ اس طرح دیار حبیب میں قیام کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔چنانچہ اس تعیناتی کے چند دن بعد تاریخ ۱۸ اکتوبر ۱۹۰۹ء کے روز نامچہ میں مرقوم ہے۔د سہو ہے۔دن مراد ہیں۔مولف