اصحاب احمد (جلد 6) — Page 54
54 آخر ایک رقعہ اس مضمون کا ماسٹر عبدالرحمن صاحب * سے لکھوایا کہ میں استقلال سے ( ہوں ) اور مستقل ہوں۔اور آپ کو سچا مانتا ہوں۔میرے کلمہ کے گواہ رہیں۔میں راضی بقضاء ہوں۔۔۔۔۔قاضی عبدالرحیم صاحب نے اپنے روز نامچہ میں ۲۲ مئی ۱۹۰۴ء کی تاریخ میں لکھا: 66 آج حضرت صاحب گورداسپور سے تشریف لائے۔* * دعاء کے لئے عرض کی اور جنازہ کے لئے۔ظہر کی نماز کے بعد حضرت نے جنازہ پڑھایا۔بڑی لمبی دعا کی۔ایسی آگے میں نے نہیں دیکھی۔بعد ازاں مولوی عبد الکریم صاحب نے چند آدمیوں کو مخاطب کر کے کہا پرانے آدمیوں کی ایسی ہی قدر ہوتی ہے۔“ حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اول) نے قاضی عبدالرحیم صاحب کو ذیل کا تعزیتی مکتوب ارسال کیا: جو پیدا ہوا وہ جدا ہوگا۔نماند کسے چو محمد نہ ماند - عیال کو ضر ور ساتھ رکھنا چاہئے۔قادیان میں مکان بنالو۔اور جب موقعہ لگے یہاں ضرور آیا کرو۔آپ لاحول اور درود اور الحمد بہت پڑھا کریں۔نورالدین ۷اجون ۱۹۰۴ء ( روز نامچہ ) چوہدری فیض احمد بھٹی ولد چوہدری محمد دین صاحب (صحابی ) نے جو ۱۹۴۷ء سے ہجرت کر کے بمقام گنری ( سندھ) مقیم ہیں۔ذیل کے واقعات حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کے متعلق تحریر فرمائے ہیں : * بقيه حاشیه : اور بعد ازاں من وعن پر چہ مذکور میں شائع ہوئی ہے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے بیان فرمایا : ”جب حضرت اقدس کو مقدمات تھے۔اور عدالت میں حاضری کی تاریخیں نزدیک نزدیک آتی تھیں۔تو حضرت اقدس علیہ السلام گورداسپور کچھ دیر مقیم رہے اور ادھر قاضی صاحب مذکور بیمار ہو گئے۔انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں ایک عریضہ نہایت انکساری کے الفاظ میں دُعا کی درخواست کرتے ہوئے لکھا۔حضرت اقدس کو بھی ان سے بہت پیار تھا۔کیونکہ انہوں نے آپ کی اس وقت بیعت کی جب کہ آپ کے مرید معدودے چند ہی تھے۔اور آپ خود اپنے مریدوں کو گھر سے اپنے ہاتھوں کھانا لا کر دیتے۔جس چیز کی کھاتے وقت ضرورت ہوتی۔آپ خود اندر جا کر لاتے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے خط پہنچنے کے بعد دعا کی۔اور آپ کو رات کے وقت جواب ملا وہ بیچارہ فوت ہو گیا ہے آپ نے صبح حاضرین سے کہا کہ میں نے اس طرح سے دعا کی تھی۔اور یہ جواب ملا ہے۔تھوڑی دیر بعد ڈاک میں خطہ آیا کہ قاضی صاحب فوت ہو گئے ہیں۔“ ہو۔مراد ماسٹر عبدالرحمن صاحب ( سابق مہر سنگھ ) ** ۸ سے ۱۲ مئی تک حضور کا قیام گورداسپور میں رہا۔(ملاحظہ ہوا الحام۱۷/۵/۰۴اص ۵ والبدر ۱۶ / ۸ مئی ۳، ص ۱۵)